Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
144 - 263
 {۱۱}  فرض کا وقت تنگ ہو تو ہر نماز یہاں تک کہ سنت فجر و ظہر مکروہ ہے۔
 {۱۲}  جس بات سے دل بٹے اور اس کو دور کرسکتا ہو تو اسے بلا دور کیے ہر نماز مکروہ ہے، جیسے پیشاب یا پاخانہ یا ریاح کا غلبہ ہو تو ایسی حالت میں نماز مکروہ ہے، البتہ اگر وقت جاتا ہو تو پڑھ لے اور ایسی نماز پھر دُہرائے، یوہیں کھانا سامنے آگیا اوراس کی خواہش ہو یا اور کوئی ایسی بات ہو جس سے دل کو اطمینان نہ ہو اور خشوع ( 1)   میں فرق آئے تو ایسی صورت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ (درمختار وغیرہ) 
مسئلہ۲۴:  فجر اور ظہر کے پورے وقت اوّل سے آخر تک بلا کراہت ہیں یعنی یہ نمازیں اپنے وقت کے جس حصے میں پڑھی جائیں بالکل مکروہ نہیں ۔  (بحرالرائق وبہار شریعت) 
اَذان کا بیان 
اَذان کا ثواب 
	اَذان کا ثواب حدیثوں میں بہت آیا ہے، ایک حدیث میں ہے کہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم)  نے فرمایا:  اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اَذان کہنے میں کتنا ثواب ہے، اس پر آپس میں تلوار چلتی۔   ( رواہ احمد) 
مسئلہ۱:  اَذان شعائر اسلام سے ہے کہ اگر کسی شہر یا گاؤں یا محلہ کے لوگ اَذان دینا چھوڑ دیں تو بادشاہ اسلام ان پر جبر  ( 2)   کرے اور نہ مانیں تو قتال (3 )   کرے۔  (قاضی) 



________________________________
1 -      عاجزی
2 -      یعنی سختی کرے تاکہ اَذان دیں۔
3 -      جنگ