جب غروب میں بیس منٹ باقی رہ جاتے ہیں تو اسی قدر وقت کراہت ہے یوہیں بعد طلوع بیس منٹ کے بعد جو از نماز کا وقت ہوجاتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، بہار شریعت)
مسئلہ۹: تاخیر (1 ) سے مراد یہ ہے کہ وقت مستحب کے دو حصے کیے جائیں اور پچھلے حصہ میں نماز ادا کی جائے۔
مسئلہ۱۰: بدلی کے دن (2 ) کے سوا مغرب میں ہمیشہ تعجیل (3 ) مستحب ہے اور دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہ تنزیہی اور اگر بغیر عذر سفر و مرض وغیرہ اتنی تاخیر کی کہ ستارے گتھ (4 ) گئے تو مکروہ تحریمی۔ (درمختار، عالمگیری، فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ۱۱: عشاء میں تہائی رات گئے تاخیر مستحب ہے اور آدھی رات تک تاخیر مباح، یعنی جب کہ آدھی رات ہونے سے پہلے فرض پڑھ چکے اور اتنی تاخیر کہ رات ڈھل گئی مکروہ ہے کہ باعث تقلیل جماعت ہے۔ ( ) (بحر، درمختار، خانیہ)
مسئلہ۱۲: عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے سونا مکروہ ہے۔
مسئلہ۱۳: عشاء کی نماز کے بعد دنیا کی باتیں کرنا قصے کہانی کہنا سننا مکروہ ہے ضروری باتیں تلاوت قرآن شریف اور ذکراور دینی مسائل اور بزرگوں کے قصے اور مہمان سے بات چیت کرنے میں حرج نہیں ۔ یوہیں صبح صادق سے آفتاب نکلنے تک ذکرِ الٰہی کے سوا ہر بات مکروہ ہے۔ (درمختار، ردالمختار)
________________________________
1 - تاخیر: دیر کرنا۔ (۱۲منہ)
2 - جس دن آسمان پر بادل ہوں۔
3 - تعجیل: جلدی کرنا۔ (۱۲منہ)
4 - یعنی خوب ظاہر ہوگئے۔
5 - یعنی نمازِ باجماعت میں حاضر ہونے والوں کی تعداد میں کمی کا باعث ہے۔