Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
138 - 263
 کے بعد پھر اِتناوقت باقی رہے کہ اگر نماز میں فساد ظاہر ہو توطہارت کرکے ترتیل سے چالیس سے ساٹھ آیت دوبارہ پڑھ سکے اور اِتنی تاخیر مکروہ ہے کہ آفتاب نکلنے کا شک ہوجائے۔ 
                                                                                                (قاضی خان وغیرہ) 
مسئلہ۳:  عورتوں کے لیے ہمیشہ فجر کی نماز اول وقت میں مستحب ہے اور باقی نمازوں میں بہتر یہ ہے کہ مردوں کی جماعت کا انتظارکریں ، جب جماعت ہوچکے تب پڑھیں ۔
مسئلہ۴:  جاڑے کی ظہر میں جلدی مستحب ہے، گرمی کے دنوں میں دیر کرکے پڑھنا مستحب ہے خواہ تنہا پڑھے یا جماعت کے ساتھ، البتہ اگر گرمیوں میں ظہر کی نمازجماعت اول وقت میں ہوتی ہو تو مستحب وقت کے لیے جماعت چھوڑنا جائز نہیں ، موسم ربیع (1 )  جاڑوں ( 2) کے حکم میں ہے اور خریف (3 ) گرمیوں کے حکم میں ۔   
                                                                                           (ردالمحتار، عالمگیری)  
مسئلہ۵:  جمعہ کا مستحب وقت وہی ہے جو ظہر کے لیے مستحب ہے۔  (بحر) 
مسئلہ۶:  عصر کی نماز میں ہمیشہ تاخیر مستحب ہے مگر نہ اتنی تاخیرکہ خود آفتاب کے گولہ میں زردی آجائے کہ اس پر بے تکلف بے غبار و بخار نگاہ جمنے لگے، دھوپ کی زردی کا اعتبار نہیں ۔  (عالمگیری و ردالمحتار وغیرہ)  
مسئلہ۷:  بہتر یہ ہے کہ ظہر مثل اول میں پڑھے اور عصر مثل ثانی کے بعد۔  ( غنیہ)  
مسئلہ۸:  تجربہ سے ثابت ہوا کہ قرصِ آفتاب ( 4) میں یہ زردی اس وقت آجاتی ہے



________________________________
1 -      بہار کا موسم
2 -      سردیوں
3 -      خزاں کا موسم
4 -      سورج کا گولہ