عشاء کا وقت
شفق کی سپیدی غائب ہونے کے بعد سے لے کر صبح صادق شروع ہونے تک ہے۔ شفق کی سپیدی غائب ہونے کے بعدایک لمبی پورپ پچھم پھیلی ہوئی سپیدی بھی ہوتی ہے ، اس کا کچھ اعتبار نہیں وہ مثل صبح کاذب کے ہے، اس سے پہلے مغرب کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور اس کے ہوتے ہوئے بھی عشاء کا وقت ہوجاتا ہے۔
وتر کا وقت
وہی ہے جو عشاء کا وقت ہے، البتہ عشاء کی نماز سے پہلے نہیں پڑھی جاسکتی کہ ان میں ترتیب فرض ہے اگر قصداً عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے وتر پڑھ لی تو وتر نہ ہوگی، عشاء کے بعد پھر پڑھناہوگا۔ ہاں اگر بھول کر وتر پڑھ لی یا بعد کو معلوم ہوا کہ عشاء کی نماز بے وضو پڑھی تھی اور وتر وضو کے ساتھ تو وتر ہوگئی۔ (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ۲: جس خطہ زمین میں جن دنوں میں عشاء کا وقت آتا ہی نہیں تو وہاں ان دنوں میں عشاء اور وتر کی قضا پڑھی جائے۔ (بہار شریعت)
مستحب اَوقات
فجر میں تاخیر مستحب ہے یعنی جب خوب اُجالا ہوجائے تب شروع کرے مگر ایسا وقت ہونا مستحب ہے کہ چالیس سے ساٹھ آیت ترتیل کے ساتھ ( 1) پڑھ سکے اور سلام پھیرنے
________________________________
1 - خوب ٹھہر ٹھہر کرقواعد ومخارج کے ساتھ۔