Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
134 - 263
 کی طرف اُٹھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جس کے نیچے سارا اُفق  ( ) سیاہ ہوتا ہے، صبح صادق اس کے نیچے سے پھوٹ کر اُتر، دکھن ( )  دونوں پہلوئوں پر پھیل کر اُوپر بڑھتی ہے، یہ لمبی سفید ی صبح صادق کی سفیدی میں غائب ہوجاتی ہے، اس لمبی سفیدی کو صبح کاذِب کہتے ہیں اس سے فجر کا وقت نہیں ہوتا۔ (قاضی خان و بہار) 
فائدہ :
	صبح صادق کی ر وشنی میں ان شہروں میں جو ۲۷۔۲۸ درجہ یا اس کے قریب عرض البلد پر واقع ہیں  ( جیسے بریلی، لکھنؤ، کانپور وغیرہ)  چھوٹے دنوں میں تقریباً سوا گھنٹہ اور گرمی میں تقریبا ً ڈیڑھ گھنٹہ  (کچھ کم وبیش)  سورج نکلنے سے پہلے ظاہر ہوتی ہے۔ 
مسئلہ۱:  فجر کی نماز کے لیے تو صبح صادق کی سفیدی جب چمک کر ذرا پھیلنی شروع ہو اس کا اعتبار کیا جائے اور عشاء پڑھنے اور سحری کھانے میں ابتدائے طلوع صبح صادق کا اعتبار کریں یعنی فجر اس وقت پڑھیں جب اچھی طرح روشن ہوجائے اور عشاء اور سحری کا وقت اسی دم ختم سمجھیں ، جب کہ صبح صادق کی سفیدی ذرا سی بھی شروع ہو۔  ( عالمگیری وغیرہ) 
ظہر کا وقت 
	زوال یعنی سورج ڈھلنے سے لے کر اس وقت تک ہے کہ ہرچیز کا سایہ علاوہ سایہ اصلی کے دُونا ہوجائے۔ مثلاً ٹھیک دوپہر کو کسی چیز کا سایہ چار انگل تھا اور وہ چیز آٹھ اُنگل کی ہے تو جب اس چیز کا سایہ کل بیس اُنگل کا ہوجائے تب ظہر کا وقت ختم ہوگا۔



________________________________
1 -      آسمان کا کنارہ جو زمین سے ملا ہوا دکھائی دیتاہے۔
2 -      شمال ،جنوب