Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
132 - 263
 مسئلہ۱۰:  عورت کا چہرہ اگر چہ عورت نہیں ، لیکن غیر مَحرَم (1) کے سامنے منہ کھولنا منع ہے، یوہیں غیر محرم کو اُس کا دیکھنا جائز نہیں ۔ 
 مسئلہ۱۱:  اگر کسی مرد کے پاس ستر کے لیے جائز کپڑا نہیں اور ریشمی ہے تو فرض ہے کہ اس سے ستر کرے اور اسی میں نماز پڑھے البتہ اور کپڑے ہوتے ہوئے مرد کو ریشمی کپڑا پہننا حرام ہے اور ریشمی کپڑے میں نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے۔ 
مسئلہ۱۲:  اگر ننگے شخص کو چٹائی یا بچھونا مل جائے تواُسی سے ستر کرے ننگا نہ پڑھے، یوہیں اگر گھاس یا پتوں سے ستر کرسکتا ہے تو یہی کرے۔  (عالمگیری)  
مسئلہ۱۳:  کسی کے پاس بالکل کپڑا نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع و سجدہ، اشارہ سے کرے چاہے دن ہویا رات گھر میں ہو یا میدان میں ۔  (ہدایہ ،درمختار وردالمحتار)  
مسئلہ۱۴:  اگر دوسرے کے پاس کپڑا ہے اور غالب گمان ہے کہ مانگنے سے دے دے گا تو مانگنا واجب ہے۔ (ردالمحتار) 
مسئلہ۱۵:  اگر ناپاک کپڑے کے سوا کوئی اور کپڑا نہیں اور پاک کرنے کی کوئی صورت بھی نہیں تو ناپاک ہی کپڑے سے ستر کرے اور ننگا نہ پڑھے۔   (ہدایہ) 



________________________________
1 -      محرم و غیر محرم کی تعریف، کون لوگ محرم ہیں اور کون غیر محرم: عورت کا محرم وہ مرد ہے جس سے اس کا نکاح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے کبھی کسی صورت سے جائز نہیں اور یہ حرام ہونا تین قسم کے رشتوں کی وجہ سے ہے، جزئیت، رضاعت،مصاہرت۔ جزئیت:یہ کہ عورت و مرد میں یہ رشتہ ہو کہ مرد عورت کا جز ہو جیسے عورت کا بیٹا، پوتا، نواسہ ، بھانجہ، بھتیجا ہویا عورت مرد کا جز ہو جیسے عورت کا باپ، دادا، نانا، چچا، ماموں۔ رضاعت:یہ کہ مثلا ً دودھ شریکی بھائی باپ ہو۔ مصاہرت:یہ کہ سسر داماد ہواور غیر محرم وہ لوگ ہیں جن سے ان تینوں رشتوں میں سے کوئی رشتہ نہ ہو جیسے دیور، جیٹھ ، بہنوئی، نندوئی، خالو، پھوپھا اور چچا ، ماموں، خالہ، پھوپھی کے بیٹے وغیرہ غیرمحرم سے پردہ واجب ہے۔  (۱۲ منہ)