Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
120 - 263
ہاں اگر یہ دھوتا اور اتنا ہی نچوڑتا تو پاک نہ ہوتا۔
مسئلہ۱۹:  پہلی اور دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد ہاتھ پاک کرلینا بہتر ہے اور تیسری بار نچوڑنے سے کپڑا بھی پاک ہوگیا اور ہاتھ بھی اور جو کپڑے میں اِتنی تری رہ گئی ہو کہ نچوڑنے سے ایک آدھ بوند ٹپکے تو کپڑا ا ور ہاتھ دونوں ناپاک ہیں ۔
 مسئلہ۲۰:  پہلی یا دوسری بار ہاتھ پاک نہیں کیا اور اس کی تری سے کپڑے کا پاک حصہ بھیگ گیا تو یہ بھی ناپاک ہوگیا، پھر اگر پہلی بار نچوڑنے کے بعد بھیگا ہے تو اسے دو مرتبہ دھونا چاہیے اور دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد ہاتھ کی تری سے بھیگا ہے تو ایک مرتبہ دھویا جائے یوہیں اگر کپڑے سے جو ایک مرتبہ دھو کر نچوڑ لیا گیا ہے کوئی پاک کپڑا بھیگ جائے تو یہ دوبار دھویا جائے اور اگر دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد اس سے وہ پاک کپڑا بھیگا تو ایک بار دھونے سے پاک ہوجائے گا۔  
مسئلہ۲۱:  کپڑے کو تین مرتبہ دھو کر ہر مرتبہ خوب نچوڑ لیا ہے کہ اب نچوڑنے سے نہ ٹپکے گا، پھر اس کو لٹکا دیا اور اس سے پانی ٹپکا تویہ پانی پاک ہے اور اگر خوب نہیں نچوڑا تھا تو یہ پانی ناپاک ہے۔ 
 مسئلہ۲۲:  دودھ پیتے لڑکے اور لڑکی کا ایک ہی حکم ہے ، یعنی ان کا پیشاب کپڑے یا بدن پر لگا تو تین بار دھونا اور نچوڑنا پڑے گا تب پاک ہے۔ (عالمگیری وغیرہ) 
جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں اس کے پاک کرنے کاطریقہ 
مسئلہ۲۳:  جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں جیسے چٹائی، جوتا، برتن، وغیرہ اس کو دھو کر چھوڑ