Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
116 - 263
مسئلہ۲:  فرض نماز کا وقت گزر جانے سے معذور کا وضو جاتا رہتا ہے۔ جیسے کسی معذور نے عصر کے وقت وضو کیا تھا تو سورج ڈوبتے ہی وضو جاتا رہا اور کسی نے سورج نکلنے کے بعد وضو کیا تو جب تک ظہر کا وقت ختم نہ ہو وضو نہ جائے گا کہ ابھی تک کسی فرض نماز کا وقت نہیں گیا۔  
مسئلہ۳:  معذور کا وضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب سے معذورہے، ہاں اگر کوئی دوسری چیز وضو توڑنے والی پائی گئی تو وضو جاتا رہا، مثلاً جس کو قطرے کا مرض ہو، ہوا نکلنے سے اُس کا وضو جاتا رہے گا اور جس کو ہوا نکلنے کا مرض ہے اس کا قطرہ نکلنے سے وضو جاتا رہے گا۔  
مسئلہ۴:  اگر کسی ترکیب سے عذر جاتا رہے یا اس میں کمی ہو جائے تو اس ترکیب کا کرنا فرض ہے مثلاً کھڑے ہو کر پڑھنے سے خون بہتا ہے اور بیٹھ کر پڑھے تو نہ بہے گا، تو بیٹھ کر پڑھنا فرض ہے۔
مسئلہ۵:  معذور کو ایسا عذر ہے جس کے سبب سے کپڑے نجس ہوجاتے ہیں تو اگر ایک درہم سے زیادہ نجس ہوگیا اور جانتا ہے کہ اتنا موقع ہے کہ اسے دھو کر پاک کپڑوں سے نماز پڑھ لوں گا تو دھو کر نماز پڑھنا فرض ہے اور اگر جانتا ہے کہ نماز پڑھتے پڑھتے پھر اتنا ہی نجس ہوجائے گا تو دھونا ضروری نہیں اسی سے پڑھے اگرچہ جا نماز بھی آلودہ ہوجائے کچھ حرج نہیں اور اگر درہم کے برابر ہے اور دھوکر پڑھنے کا موقع ہے کہ نماز پڑھتے پڑھتے پھر اتنا ہی نجس نہ ہوجائے گا تو دھونا واجب ہے اور درہم سے کم ہے اور موقع ہے تودھونا سنت اور اگر موقع نہیں تو ہر صورت میں معاف ہے۔
مسئلہ۶:  کسی زخم سے ایسی رَطوبت نکلے کہ بہے نہیں تونہ اِس کی وجہ سے وضو ٹوٹے نہ معذور ہو نہ وہ رَطوبت ناپاک ہے۔