Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
115 - 263
معذور کا بیان
معذور کی تعریف 
مسئلہ۱:  ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہو کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وضو کے ساتھ نماز فرض ادا نہ کرسکا وہ معذور ہے، یعنی پورے وقت میں اتنی دیر بھی بیماری نہیں رُکی کہ وضو کے ساتھ فرض نماز ادا کرسکے۔ معذور کا حکم یہ ہے کہ وقت میں وضو کرلے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وضو سے پڑھے اس بیماری سے اُس کا وضو نہیں جاتا۔ جیسے قطرے کی بیماری یا دست یا ہوا خارج ہونا یا دُکھتی آنکھ سے پانی گرنا یا پھوڑے یا ناسور سے ہر وقت رَطوبت بہنا یا کان، ناف، پستان سے پانی نکلنا کہ یہ سب بیماریاں وضو توڑنے والی ہیں ان میں جب پورا ایک وقت ایسا گزر گیا کہ ہر چند کوشش کی مگر طہارت کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکا تو عذر ثابت ہوگیا، جب عذر ثابت ہوگیا تو جب تک ہر نماز کے وقت میں ایک ایک بار  بھی وہ چیز پائی جائے گی، معذور ہی رہے گا۔ مثلاً عورت کو نماز کا ایک پورا وقت ایسا گزر گیا جس میں اِستحاضہ نے اتنی مہلت نہیں دی کہ طہارت کرکے فرض پڑھ لیتی اور دوسرے وقت میں اتنی مہلت ملتی ہے کہ وضو کرکے نماز پڑھ لے۔ مگر اب اس دوسری نماز کے وقت میں بھی ایک آدھ دفعہ خون آجاتا ہے تو اب بھی معذور ہے، یعنی عذر ثابت ہونے کے بعد یہ ضروری نہیں ہے کہ آئندہ ہر وقت میں کثرت سے بار بار وضو توڑنے والی چیز پائی جائے، عذر ثابت ہونے کے لیے کثرت و تکرار درکار ہے، لیکن اتنی کثرت کہ ایک فرض بھی وضو کے ساتھ ادا نہ ہوسکے۔ بعد کی ہر نماز کے وقت میں اتنی کثرت ضروری نہیں ، بلکہ ایک بار بھی کافی ہے۔