تنبیہ :اس بیان میں جہاں بچہ ہونے کا لفظ آئے گا اس کا مطلب آدھے سے زیادہ بچہ باہر آجانا ہے۔
مسئلہ۱۳: کسی کو چالیس دن سے زیادہ خون آیا تو اگر اس کے پہلی بار بچہ پیدا ہوا ہے یا یہ یاد نہیں کہ اس سے پہلے بچہ پیدا ہونے میں کتنے دن خون آیا تھا تو ان دونوں صورتوں میں چالیس دن رات نفاس ہے باقی استحاضہ اور جو پہلی عادت معلوم ہے توعادت کے دنوں تک نفاس ہے اور جتنا دن زیادہ آیا وہ استحاضہ ہے، جیسے عادت تیس دن کی تھی، اس بار پینتالیس دن آیا تو تیس دن نفاس کے اور پندرہ استحاضہ کے ہیں ۔
مسئلہ۱۴: بچہ پیدا ہونے سے پہلے جو خون آیا وہ نفاس نہیں بلکہ استحاضہ ہے اگرچہ بچہ آدھا باہر آگیا ہو۔
مسئلہ۱۵: حمل ساقط ہونے سے پہلے کچھ خون آیا کچھ بعد کو تو پہلے والا استحاضہ ہے، بعد والا نفاس ہے لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کوئی عضو بن چکا ہو ورنہ پہلے والا اگر حیض ہوسکتا ہے تو حیض ہے، نہیں تو استحاضہ ۔
مسئلہ۱۶: چالیس دن کے اندر کبھی خون آیا کبھی نہیں تو سب نفاس ہی ہے، اگر چہ پندرہ دن کا فاصلہ ہوجائے۔
مسئلہ۱۷: اس کے رنگ کے بارے میں وہی اَحکام ہیں جو حیض میں بیان ہوئے۔
حیض و نفاس کے اَحکام
مسئلہ۱۸: حیض و نفاس کی حالت میں نماز پڑھنا روزہ رکھنا حرام ہے۔