دن استحاضہ کے اور اگر ایک حالت مقرر نہ تھی بلکہ کبھی چار دن آیا کبھی پانچ دن آیا تو پچھلی بار جتنے دن آیا اتنے ہی دن حیض کے سمجھے جائیں باقی استحاضہ ہے۔
مسئلہ۴: یہ ضروری نہیں کہ مدت میں ہر وقت خون جاری رہے جبھی حیض ہو بلکہ اگر بعض بعض وقت آئے جب بھی حیض ہے۔
حیض آنے کی عمر
کم سے کم نوبرس کی عمر سے حیض شروع ہوگا اور انتہائی عمر حیض آنے کی پچپن سال کی عمر ہے، اس عمرو الی کو آئسہ اور اس عمر کو سن اِیاس کہتے ہیں ۔ (عالمگیری)
مسئلہ۵: نو برس کی عمر سے پہلے جو خون آیا وہ استحاضہ ہے، یوں ہی پچپن سال کی عمر کے بعد جو خون آئے وہ استحاضہ ہے اگر پچپن برس کی عمر کے بعد خالص خون آئے یا جیسا پہلے آتا تھا اُسی رنگ کا آیا تو حیض ہے۔ (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ۶: حمل والی کو جو خون آیااستحاضہ ہے یوں ہی بچہ ہوتے وقت جو خون آیا اور ابھی بچہ آدھے سے زیادہ باہر نہیں نکلا تو وہ استحاضہ ہے۔
مسئلہ۷: دو حیضوں کے درمیان کم سے کم پورے پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے یوں ہی نفاس و حیض کے درمیان بھی پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے تو اگر نفاس ختم ہونے کے بعد پندرہ دن پورے نہ ہوئے تھے کہ خون آیا تو یہ استحاضہ ہے۔
مسئلہ۸: حیض اس وقت شمار کیا جائے گا جب کہ خون فرج خارج میں آگیا تو اگر کوئی کپڑا رکھ لیا ہے جس کی وجہ سے خون فرج خارج میں نہیں آیا داخل ہی میں رُکا رہا تو جب تک کپڑا نہ نکالے گی حیض والی نہ ہوگی، نمازیں پڑھے گی روزہ رکھے گی۔