ہو یا سخت تکلیف ہوتی ہو تو بھیگا ہاتھ پھیر لینا کافی ہے اور اگر یہ بھی نقصان کرتا ہو تو اس پر کپڑا ڈال کر کپڑے پر مسح کرے اور جو یہ بھی مضر ہو تو معاف ہے اور اگر اس میں کوئی دوا بھر لی تو اس کا نکالنا ضروری نہیں اس پر سے پانی بہا دینا کافی ہے۔
حیض کا بیان
حیض کی تعریف
بالغہ عورت کے آگے کے مقام سے جو خون عادی طور پر نکلتا ہے اور بیماری یا بچہ ہونے کی وجہ سے نہ ہو، اُسے حیض کہتے ہیں اور بیماری سے ہو تو اِستحاضہ اور بچہ ہونے کے بعد ہو تو نفاس کہتے ہیں ۔
مسئلہ۱: حیض کی مدت کم سے کم تین دن تین راتیں ہیں یعنی پورے بہتر گھنٹے ایک منٹ بھی اگر کم ہے تو حیض نہیں اور زیادہ سے زیادہ دس دن دس راتیں ہیں ۔
مسئلہ۲: بہتر 72 گھنٹے سے ذرا بھی پہلے ختم ہوجائے تو حیض نہیں بلکہ اِستحاضہ ہے، ہاں اگر صبح کو کرن چمکتے ہی شروع ہوا اور تین دن تین راتیں پوری ہو کر کرن چمکنے ہی کے وقت ختم ہوا تو حیض ہے اور اس صورت میں بہتر گھنٹہ پور ا ہونا ضروری نہیں البتہ کسی اور وقت شروع ہو تو گھنٹوں ہی سے شمار ہوگا اور چوبیس گھنٹہ کا ایک دن رات لیا جائے گا۔ ( بہار شریعت)
مسئلہ۳: دس رات دن سے کچھ بھی زیادہ خون آیا تو اگر یہ حیض پہلی مرتبہ اُسے آیا ہے تو دس دن تک حیض ہے بعد کا استحاضہ اور اگر پہلے اِسے حیض آچکے ہیں اور عادت دس دن سے کم کی تھی تو عادت سے جتنا زیادہ ہوا استحاضہ ہے، اِسے یوں سمجھو کہ پانچ دن کی عادت تھی اب آیا دس دن تو کل حیض ہے اور بارہ دن آیا تو پانچ دن حیض کے باقی سات