Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
109 - 263
ہو یا سخت تکلیف ہوتی ہو تو بھیگا ہاتھ پھیر لینا کافی ہے اور اگر یہ بھی نقصان کرتا ہو تو اس پر کپڑا ڈال کر کپڑے پر مسح کرے اور جو یہ بھی مضر ہو تو معاف ہے اور اگر اس میں کوئی دوا بھر لی تو اس کا نکالنا ضروری نہیں اس پر سے پانی بہا دینا کافی ہے۔
حیض کا بیان 
 حیض کی تعریف 
	بالغہ عورت کے آگے کے مقام سے جو خون عادی طور پر نکلتا ہے اور بیماری یا بچہ ہونے کی وجہ سے نہ ہو، اُسے حیض کہتے ہیں اور بیماری سے ہو تو اِستحاضہ اور بچہ ہونے کے بعد ہو تو نفاس کہتے ہیں ۔
مسئلہ۱:  حیض کی مدت کم سے کم تین دن تین راتیں ہیں یعنی پورے بہتر گھنٹے ایک منٹ بھی اگر کم ہے تو حیض نہیں اور زیادہ سے زیادہ دس دن دس راتیں ہیں ۔ 
مسئلہ۲:  بہتر 72 گھنٹے سے ذرا بھی پہلے ختم ہوجائے تو حیض نہیں بلکہ اِستحاضہ ہے، ہاں اگر صبح کو کرن چمکتے ہی شروع ہوا اور تین دن تین راتیں پوری ہو کر کرن چمکنے ہی کے وقت ختم ہوا تو حیض ہے اور اس صورت میں بہتر گھنٹہ پور ا ہونا ضروری نہیں البتہ کسی اور وقت شروع ہو تو گھنٹوں ہی سے شمار ہوگا اور چوبیس گھنٹہ کا ایک دن رات لیا جائے گا۔  ( بہار شریعت) 
مسئلہ۳:  دس رات دن سے کچھ بھی زیادہ خون آیا تو اگر یہ حیض پہلی مرتبہ اُسے آیا ہے تو دس دن تک حیض ہے بعد کا استحاضہ اور اگر پہلے اِسے حیض آچکے ہیں اور عادت دس دن سے کم کی تھی تو عادت سے جتنا زیادہ ہوا استحاضہ ہے، اِسے یوں سمجھو کہ پانچ دن کی عادت تھی اب آیا دس دن تو کل حیض ہے اور بارہ دن آیا تو پانچ دن حیض کے باقی سات