{۴} وضو کرکے پہنا ہو یعنی اگر موزہ بے وضو پہنا تھا تو مسح نہیں کرسکتا۔
مسئلہ۴: تیمم کرکے موزے پہنے گئے تو مسح جائز نہیں ۔
{۵} نہ حالت جنابت میں پہنا ہو، نہ بعد پہننے کے جنب ہوا ہو۔
{۶} مدت کے اندر ہو اور اس کی مدت مقیم کے لیے ایک دن رات ہے اور مسافر کے واسطے تین دن تین رات۔
مسئلہ۵: موزہ پہننے کے بعد پہلی مرتبہ جو حدث ( 1) ہوا اس وقت سے اس مدت کا شمار ہوگا، مثلا ًصبح کے وقت موزہ پہنا اور ظہر کے وقت پہلی بار حدث ہوا تومقیم دوسرے دن کی ظہر تک مسح کرے اور مسافر چوتھے دن کی ظہر تک۔
{۷} موزہ پاؤں کی چھوٹی تین اُنگلیوں کے برابر پھٹا نہ ہو یعنی چلنے میں تین اُنگل بدن ظاہر نہ ہوتا ہو۔
مسئلہ۶: موزہ پھٹ گیا یا سیون کھل گئی اور ویسے پہنے رہنے کے حالت میں تین اُنگل پاؤں ظاہر نہیں ہوتا، مگر چلنے میں تین اُنگل دکھائی دیتا ہے تو مسح جائز نہیں یعنی پھٹے موزہ میں تین اُنگل سے کم پاؤں کھلے تو مسح جائز ہے اور تین اُنگل یا اس سے زیادہ کھلے تو جائز نہیں ۔
مسئلہ۷: ٹخنے کے اُوپر موزہ چاہے کتنا ہی پھٹا ہو کچھ حرج نہیں مسح ہوسکتا ہے۔ پھٹنے کا اعتبار ٹخنے سے نیچے کے حصوں میں ہے۔
مسح موزہ کا طریقہ
مسح کاطریقہ یہ ہے کہ ہاتھ تر کرکے دا ہنی ہاتھ کی تین انگلیاں داہنے پاؤں کے
________________________________
1 - حدث: بے وضو ہونا۔ ۱۲ (منہ)