نویں صورت: یہ گمان کہ وضو یا غسل کرنے میں عیدین کی نماز جاتی رہے گی تو تیمم جائز ہے خواہ یوں کہ امام پڑھ کر فارغ ہوجائے گا یا زوال کا وقت آجائے گا، دونوں صورتوں میں تیمم جائز ہے۔
مسئلہ۱۲: اگریہ سمجھے کہ وضو کرنے میں ظہر یا مغرب یا عشاء یا جمعہ کی پچھلی سنتوں کایا چاشت کی نماز (1 ) کا وقت جاتا رہے گا تو تیمم کرکے پڑھ لے۔
دسویں صورت:یہ کہ آدمی میت کا ولی نہ ہو اور ڈر ہو کہ وضو کرنے میں نماز جنازہ نہ ملے گی تو تیمم جائز ہے۔
مسئلہ۱۳: مسجد میں سوگیا اور نہانے کی ضرورت ہوگئی تو آنکھ کھلتے ہی جہاں تھا وہیں فوراً تیمم کر کے نکل آئے (2 ) دیر کرنا حرام ہے۔
________________________________
1 - مجدّد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: پانی نہ ہونے کی حالت میں بے وضو نے مسجد میں ذکر کے لیے بیٹھنے بلکہ مسجد میں سونے کے لیے (کہ سرے سے عبادت ہی نہیں) یا پانی ہوتے ہوئے سجدہ تلاوت یا سجدہ شکر یا مسِ مصحف یا باوجود وسعت وقت نمازِ پنجگانہ یا جمعہ یا جنب نے تلاوتِ قرآن کے لیے تیمم کیا لغووباطل وناجائز ہوگا کہ ان میں سے کوئی بے بدل فوت نہ ہوتا تھا، یونہی ہماری تحقیق پرتہجد یا چاشت یا چاند گہن کی نماز کے لیے، اگرچہ اُن کا وقت جاتا ہوکہ یہ نفل ہیں سنت مؤکدہ نہیں تو باوجودِ آب (یعنی پانی کی موجودگی میں) زیارتِ قبور یا عیا دتِ مریض یا سونے کے لیے تیمم بدرَجہ اَولیٰ لغو ہے۔ (فتاوی رضویہ، ۳/۵۵۷)
2 - ہاں جو شخص عین کنارہ مسجدمیں ہو کہ پہلے ہی قدم میں خارج ہو جائے جیسے دروازے یا حُجرے یا زمین پیش حجرہ (یعنی حجرہ کے سامنے والی زمین ) کے متصل سوتا تھا اور احتلام ہوا یا جنابت یاد نہ رہی اور مسجد میں ایک ہی قدم رکھا تھا، ان صورتوں میں فوراً ایک قدم رکھ کر باہر ہو جائے کہ اس خروج (یعنی نکلنے میں) میں مرور فی المسجد (یعنی مسجد میں چلنا ) نہ ہوگا اور جب تک تیمم پورانہ ہو بحالِ جنابت (یعنی جنابت کی حالت میں) مسجد میں ٹھہرنا رہے گا۔ (فتاوی رضویہ،۳/۴۸۰)