Brailvi Books

قانونِ شرِیعت
100 - 263
یا شیر ہے کہ پھاڑ کھائے گا یا کوئی بدکار شخص ہے جو بے آبروئی کرے گا تو تیمم جائز ہے۔
پانچویں صورت: یہ کہ جنگل میں ڈول رسی نہیں کہ پانی بھرے تو تیمم جائز ہے۔
چھٹی صورت :یہ ہے کہ پیاس کا خوف ہو یعنی پانی تو ہے لیکن اگر اس پانی کو وضو یا غسل میں خرچ کردے گا تو یہ خود یا دوسرا مسلمان یا اس کا یا دوسرے مسلمان کا جانور  (چاہے جانور ایسا کتا ہی کیوں نہ ہو جس کا پالنا جائز ہے) پیاسا رہ جائے گااور یہ پیاس خواہ ابھی موجود ہو یا آگے چل کر ہوگی کہ راہ ایسی ہے کہ دور تک پانی کا پتا نہیں تو تیمم جائز ہے۔
مسئلہ۹:  پانی موجود ہے مگر آٹا گوندھنے کی ضرورت ہے جب بھی تیمم جائز ہے، شوربے کی ضرورت کے لیے تیمم جائز نہیں ۔
مسئلہ۱۰:  بدن یا کپڑے پر اتنی نجاست ہے کہ جتنی نجاست کے ہوتے ہوئے نمازجائز نہیں اور پانی صرف اتنا ہے کہ چاہے وضو کرے یا نجاست دور کرے تو پانی سے نجاست دھوئے اور پھر دھونے کے بعد تیمم کرے، پاک کرنے سے پہلے تیمم نہ ہوگا، اگر پہلے کرلیا ہے تو پھر کرے۔
ساتویں صورت: یہ کہ پانی مہنگا ہو یعنی وہاں جس بھاؤ بکتا ہے اس سے دو گنادام مانگتا ہے تو تیمم جائز ہے اور اگر دام میں اتنا فرق نہ ہو یعنی دونے سے کم میں ملے تو تیمم جائز نہیں ۔
مسئلہ۱۱:  پانی مول ملتا ہے اور اس کے پاس حاجت ضروریہ سے زیادہ دام نہیں تو بھی تیمم جائز ہے۔
آٹھویں صورت:  یہ کہ پانی تلاش کرنے میں قافلہ نظر سے غائب ہوجائے گا یا ریل چھوٹ جائے گی، تو تیمم جائز ہے۔