Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط43: تنگ وقت میں نماز کا طریقہ
3 - 37
 ہے : (1) وقت میں اتنی گنجائش ہے کہ وضو اور اگر غسل کرنا  لازم ہو تو غسل کر کے کپڑے بدل کر  یا وہی کپڑے پاک کر کے  یا  پاک چادر اوڑھ کر نماز  ادا  کر سکے تو  اسی طرح کرنا  ہو گا ۔  
(2)وقت میں اتنی گنجائش ہے کہ وُضو اور اگر غسل کرنا  لازِم ہو تو غسل کر کے نمازِ فجر کی دو رَکعت  فرض صِرف فرَائض و واجبات کے ساتھ پڑھ سکے یا ظہر و عصر و مغرب و عشا کی نمازوں میں وقت کے اندر صِرف نیَّت باندھ سکے تو  اسی طرح کرنا ہو گا ۔ یعنی اس صورت میں فجر کی  فرض نماز کے سُنَن و مستحبات مثلاً ثنا ، تعوُّذ ، تسمیہ، دُرُودِ اِبراہیمی اور  دُعائے ماثورہ  وغیرہ  چھوڑ  کر صِرف فَرائض و واجبات ادا کر کے نماز مکمل کی جائے گی ۔  
(3) اگر وقت میں اتنی گنجائش  تو نہیں کہ وُضو اور غسل لازِم ہو تو کر کے نمازِ فجر صِرف فَرائض و واجبات کے ساتھ مکمل کر سکے لیکن اتنی گنجائش ہے کہ طہارت وغیرہ کے ساتھ صِرف فَرائض پورے کر سکتا ہے تو نماز اِسی طرح ادا کرے ۔  چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت، مُجَدِّدِدِین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : اگر وقت اس قدر تنگ ہے کہ صِرف فَرائض ادا کر سکتا ہے واجبات کی گنجائش نہیں تو واجبات کو ساقِط کر دینا اور فَرض پر اِکتفا کرنا لازِم ہے تاکہ اَدائیگی وقت کے اندر ہو جائے ۔  (1) 



________________________________
1 -    فتاویٰ رضویہ، ۳ / ۴۵۹ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور