بلکہ رات کا اکثر حصّہ گزر جائے اور نمازِ فجر جانے کا اندیشہ ہو تو اب سونے کی شرعاً اجازت ہی نہیں جیسا کہ صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:دخولِ وقت کے بعد سو گیا پھر وقت نکل گیا تو قطعاً گنہگار ہوا جبکہ جاگنے پر صحیح اِعتماد یا جگانے والا موجود نہ ہو بلکہ فجر میں دخولِ وقت سے پہلے بھی سونے کی اِجازت نہیں ہوسکتی جبکہ اکثر حصّہ رات کا جاگنے میں گزرا اور ظن ہے کہ اب سو گیا تو وقت میں آنکھ نہ کھلے گی۔ (1) لہٰذا عشا کی نَماز پڑھ کر حتَّی الامکان دو گھنٹے کے اندر اندر سو جایئے، یہ مدنی اِنعامات میں سے ایک مدنی اِنعام بھی ہے کہ” کیا آج آپ نے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں پڑھا یا پڑھایا؟ نیز مسجدِ محلہ کی عشا کی جماعت کے وقت سے دو گھنٹے کے اندر اندر گھر پہنچ گئے ؟“
وقت پر بیدار ہونے کے لیے سوتے وقت اپنے سرہانے اَلارم والی گھڑی رکھ لیجیے جس سے آنکھ کُھل جائے مگر ایک عدد گھڑی پر بھروسا نہ کیجیے کہ بسااوقات نیند میں ہاتھ لگ جانے یا سیل (Cell)ختم ہو جانے یا یوں ہی خراب ہو کر بند ہو جانے کااندیشہ ہے لہٰذا دو یا حسبِ ضَرورت زائد گھڑیاں ہوں تو بہتر ہے۔اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: صرف ایک گھڑی پر اِعتماد نہیں کرنا چاہیے کہ بعض اوقات خود بخود آگے پیچھے
________________________________
1 - بہارِ شریعت ، ۱ / ۷۰۱، حصّہ: ۴