کینۂ مُسلِم سے پاک کیجیے اور جس کے بارے میں دِل میں کینہ ہو اُسے اپنے سے بہتر جانتے ہوئے یہ ذہن بنائیے کہ ہو سکتا ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہو۔ بہرحال کوئی بھی ایسی ترکیب کی جائے کہ دِل کینۂ مُسلِم سے پاک ہو کر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی محبت کا مدینہ بن جائے،اس ضمن میں ایک حِکایت مُلاحظہ کیجیے: حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کیمیائے سعادت میں نقل فرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر کتانی قُدِّ سَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:ایک شخص نے میرے ساتھ دوستی کی مگر میرے دل میں بوجھ رہا۔ میں نے اُسے تحفہ دیا تا کہ دِل کی گِرانی دُور ہو مگر فائدہ نہ ہوا۔میں اُسے پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گیا اور کہا:اپنا پاؤں میرے چہرےپر رکھو۔ اُس نے اِنکار کیا،میں نے کہا:تجھے ایسا کرنا ہی پڑے گا چنانچہ اس نے اپنا پاؤں میرے چہرے پر رکھا تو میرے دل سےگِرانی دُور ہو گئی۔ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر ہم اِس طرح نہیں کر سکتے تو کم ازکم جس سے بغض و کینہ ہو اسے حقیر جاننے سے بچتے ہوئے سلام و مصافحہ کرنے اور تحفہ وغیرہ دینے کی عادت بنانی چاہیے کہ اس سے بھی آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے اور بغض وکینہ دُور ہوتا ہے جیسا کہ حُضورِ پُرنور ،شافِعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:تَصَافَحُوْا یَذْہَبُ الْغِلُّ وَ تَہَادَوْا تَحَابُّوْا وَتَذْہَبُ
________________________________
1 - کیمیائے سعادت ، رکن دوم ، معاملا تست، حق پنجم، ۱ / ۳۸۰ اِنتشارات گنجینه تھران