بتایا ہے تو اب اس کی شامت آ جاتی ہے اور اس کے بارے میں دِل میں کینہ جَنَم لینا شروع کر دیتا ہے۔
کینے سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈرائیے اور یوں اپنا ذہن بنائیے کہ کینہ پَروَر شبِ بَراءَت (یعنی جہنم کی آگ سے چُھٹکارا پانے کی رات) میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نظرِ رَحمت اور مغفرت سے محروم رہتا ہے جیسا کہ نبیوں کے سلطان،رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:میرے پاس جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام)آئے اورکہا:یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے اِس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ جہنم سے اِتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے بنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں مگر کافر اور عداوت والے (کینہ پَرور)اور رِشتہ کاٹنے والے، (تکبر کرتے ہوئے ٹخنوں سے نیچے)کپڑا لٹکانے والے، والدین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کے عادی کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔ (1)
یاد رکھیے! کینہ پَروَرْ بہت بڑا عبادت گزار ہی کیوں نہ ہو اُسے ڈر جانا چاہیے کہ یہ باطنی بیماری کہیں اس کی ساری نیکیوں پر پانی نہ پھیر دے کیونکہ پورے گودام کو جلانے کے لیے ایک چنگاری کافی ہوتی ہے،ایک تیلی جلا کر گودام میں ڈال دیجیے تو پورا گودام دیکھتے ہی دیکھتے جل کر راکھ بن جائے گا لہٰذا اپنے دِل کو
________________________________
1 - شعب الایمان، باب فی الصیام، ما جاء فی لیلة النصف من شعبان ، ۳ / ۳۸۴، حدیث: ۳۸۳۷ دار الکتب العلمیة بیروت