بِلاوجہ شرعی بغض و کینہ رکھنے کا حکم
سُوال:کسی مسلمان کے متعلق اپنے دل میں بغض و کینہ رکھنا کیسا ہے ؟
جواب:مسلمان سے بِلاوجہ شرعی کینہ وبغض رکھنا حرام ہے۔ (1) لہٰذا ہر دَم اپنے سینے کو مسلمانوں کے کینے سے پاک رکھیے۔حضرتِ سَیِّدُنا اَنس بن مالِک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:اے میرے بیٹے! اگر تم صُبْح و شام اس حال میں کرو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کینہ نہ ہو تو (ایسا ہی) کرو۔ پھر مجھ سے فرمایا: يَا بُنَيَّ وَذٰلِكَ مِنْ سُنَّتِيْ،وَمَنْ اَحْيَا سُنَّتِيْ فَقَدْ اَحَبَّنِيْ،وَمَنْ اَحَبَّنِيْ كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ اے میرے بیٹے! یہ میری سنَّت ہے اور جس نے میری سنَّت کو زندہ کیا اُس نے مجھ سے مَحبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔ (2) اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے سینوں کو مسلمانوں کے کینوں سے پاک و صاف فرمائے اور ہمیں اِس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
کینۂ مسلم سے سینہ پاک کر
اِتباعِ صاحبِ لولاک کر (وسائلِ بخشش)
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ ، ۶ / ۵۲۶
2 - ترمذی ، کتاب العلم، باب ما جاء فی الاخذ بالسنة...الخ ، ۴ / ۳۰۹، حدیث: ۲۶۸۷ دار الفکر بیروت