Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 10 :سفرِ مدینہ کے مُتَعَلِّق سُوال جواب
36 - 36
حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے وقتاً فوقتاً اور بالخصوص حج کے موسِمِ بہار میں دُنیا کے مختلف ممالک سے چار ماہ کےلیے خُدَّام بُلائے جاتے ہیں،  لوگ بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پہنچتے ہیں۔ مَسْجِدَیْن کَرِیْمَیْن میں خدمت کا  موقع مل جانا اسی صورت میں سعادت ہے جبکہ وہاں کے آداب اور تعظیم و توقیر میں فرق نہ آنے پائے اور نہ ہی کام میں کسی قسم کی  کوئی کوتاہی واقع ہو۔ ایک بار ایک نوجوان حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً کی زیارت کے شوق میں چار ماہ کے لیے بطورِ خادِم بھرتی ہو گیا،  جب اُس نے وہاں کی  بے اَدَبیاں اور بے باکیاں دیکھیں تو سمجھ گیا کہ یہ سب کچھ مجھ سے بھی صادِر ہوکر رہے گا تو وہ گھبرا گیا اور اُس پر گِریہ طاری ہو گیا۔ اس نے سارا  کام کاج چھوڑ کر رونے کی ’’ ڈیوٹی ‘‘ سنبھال لی، یہاں تک کہ بُلانے والوں نے تنگ آکر خُروج لگوا کر اسے  وطن روانہ کر دیا!! 
سنبھل کر پاؤں رکھنا زائرو مکّے مدینے میں
کہیں ایسا نہ ہو سارا سفر بےکار ہو جائے
٭…٭…٭ 
٭…٭…٭…٭…٭