قبر کے قریب سے گزرے تو دَریافت فرمایا:یہ کس کی قبر ہے؟ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا: اُمِّ مِحْجَنْ کی۔اِرشاد فرمایا: وہی جو مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی؟ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:جی ہاں۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے لوگوں کو اس کی قبر پر صف بنانے کا حکم دیا اور اس کی نَمازِ جنازہ پڑھائی۔(1) پھر اس عورت کو مخاطب کر کے فرمایا: تو نے کون سا کام سب سے افضل پایا؟ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:یَارَسُوْلَ اللہ! کیا یہ سُن رہی ہے؟ اِرشاد فرمایا: تم اس سے زیادہ سننے والے نہیں ہو۔راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اس نے میرے سُوال کے جواب میں کہا:مسجد کی صفائی کو۔(2)
________________________________
1 - مُفَسّرِشہیر، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : قبر پر نماز (جنازہ) جائز ہے جب غالب(گمان) یہ ہو کہ ابھی میت محفوظ ہو گی، گلی پھٹی نہ ہوگی۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سارے مسلمانوں کے ولی (سرپرست) ہیں، ربّ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے : )اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ ((پ۲۱، الاحزاب : ۶) ترجمۂ کنزُ الایمان : ”یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔“اگر ولی کے عِلاوہ اور لوگ نماز پڑھ لیں تو ولی کو دوبارہ جنازہ پڑھنے کا حق ہے۔ دیکھو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اس میت پر نماز پڑھ لی تھی مگر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دوبارہ پڑھی، ولی کے نماز پڑھ لینے کے بعد اور کسی کو جنازہ پڑھنے کا حق نہیں۔ (مرآۃُ المناجیح ، ۲ / ۴۷۲-۴۷۳ ملتقطاً ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور)
2 - الترغیب والترھیب، کتابُ الصلٰوة، الترغیب فی تنظیف المساجد...الخ، ۱ / ۱۲۲، حدیث:۴ دار الکتب العلمیة بيروت