Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 10 :سفرِ مدینہ کے مُتَعَلِّق سُوال جواب
33 - 36
 اُس کا پاک کرنا فرض ہے،  بےپاک کیے نَماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بہ نیتِ اِستِخفاف (یعنی نماز کو ہلکا جان کر ) ہے تو کُفر ہوا اور اگر دِرہَم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجِب ہے کہ بے پاک کیے نَماز پڑھی تو مکروہِ تَحریمی ہوئی یعنی اَیسی نَماز کا اِعادہ واجِب ہوا اورقَصداً پڑھی تو گنہگار بھی ہوا اور اگر دِرہَم سے کم ہے تو پاک کرنا سُنَّت ہے کہ بے پاک کیے نَماز ہو گئی مگر خِلاف ِسنَّت ہوئی اور اس کا اِعادہ بہتر ہے ۔“ اور”نَجاستِ خفیفہ کا یہ حکم ہے کہ کپڑے کے حصّہ یا بدن کے جس عُضْوْ میں لگی ہے،  اگر اس کی چوتھائی سے کم ہے (مثلاً دامن میں لگی ہے تو دامن کی چوتھائی سے کم،  آستین میں اس کی چوتھائی سے کم ۔ یوہیں ہاتھ میں ہاتھ کی چوتھائی سے کم ہے) تو معاف ہے کہ اس سے نماز ہو جائے گی اور اگر پوری چوتھائی میں ہو تو بے دھوئے نماز نہ ہو گی۔“(1)
خیال رہے صرف نجاست لگنے  کا شک ہونے سے  کپڑے وغیرہ ناپاک نہیں ہو جاتے  جب  تک  یقین نہ ہو جائے اور یقین ہو جانے کی صورت میں نماز کو ہلکا جانتے ہوئے ادا کرنا نماز کی توہین اور کفر   ہے  جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارےمکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پرمشتمل کتاب،  ’’ بہارِ شریعت ‘‘  جلد اوّل صَفْحَہ 282 پر ہے:نماز کے لئے طَہارت ایسی ضَروری چیز ہے کہ بے



________________________________
1 -    بہارِشریعت، ۱  /  ۳۸۹، حصّہ : ۲ ملتقطاً