بنے ہونے کی وجہ سے کپڑوں کا پاک رہنا مشکل ہوتا ہو تو ایسی صورت میں اگر کسی نے ان کپڑوں میں ہی نماز پڑھ لی تو اس کے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب: طہارت خانوں کے واقعی صحیح نہ بنے ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو پاک رکھنا اور گناہوں سے بچانا بَہت مشکل ہوتا ہے۔ آج کل W.C کی جگہ ’’ کموڈ ‘‘ نے لے لی ہے اس میں بھی کہیں قبلے کو پیٹھ ہوتی ہے تو کہیں مُنہ ہوتا ہے حالانکہ 45 ڈِگری کے زاویہ کے اَندر اَندر قبلہ کو مُنہ یا پیٹھ کر کے اِستنجا کرنا حرام ہے اور حرمِ مکّہ میں ایک بار کا کیا ہوا حرام کام لاکھ بار حرام کام کرنے کے مُترادِف ہے۔اگر حمّام میں فَوّارہ (Shower) ہو تو اسے اچھی طرح دیکھ لیجیے کہ اُس کی طرف منہ کر کے ننگا نہانے میں منہ یا پیٹھ قبلے شریف کی طرف تو نہیں ہو رہی۔ قبلے کی طرف منہ یا پیٹھ ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ 45 درجے کے زاویے کے اندر اندر ہو لہٰذا یہ اِحتیاط بھی ضَروری ہے کہ 45 ڈِگری کے زاویے (اینگلAngle ) کے باہر ہو۔ مَساجد کے حمام میں W.C ہوتے ہیں مگر رُخ دُرُست ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی نیز طہارت کے لیے لوٹے کے بجائے ’’ پائپ سسٹم ‘‘ ہوتا ہے جس کے باعث گندی چھینٹوں سے خود کو بچانا بے حد دُشوارہے۔
بہرحال اگر نَجاستِ غلیظہ” کپڑے یا بدن میں ایک دِرہَم سے زیادہ لگ جائے تو