کرتے بلکہ بسااوقات مَزید بڑھا کر بھی پیش کرتے ہیں اور یہ کوئی دھوکا کھانا نہیں بلکہ عشق کی بات ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللّٰہ ابنِ عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اپنے ہر اُس غُلام کو آزاد فرما دیتے جو بکثرت عبادت کرتا لہٰذا غُلام بھی خوب عبادت کرتے اور رہائی پاتے۔کسی نے عرض کی کہ غُلام رہائی پانے کے لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سامنے زیادہ عبادت کرتے ہیں۔فرمایا:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پر دھوکا دینے والے سے ہم دھوکا کھانے کے لیے تیار ہیں۔(1)
تِرے نام پر ہو قرباں مِری جان، جانِ جاناں
ہو نصیب سَر کٹانا مَدنی مدینے والے (وسائلِ بخشش)
باربار حاضری کا شوق تڑپائے تو کیا کرنا چاہیے؟
سُوال: فرض حج ادا کرلینے کے بعد کسی عاشقِ زار کو بار بار حاضری کا شوق تڑپائے تو وہ کیا کرے؟
جواب:فرض حج ادا کرلینے کے باوجود اگر کسی عاشِقِ زار کو بار بار حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً کی حاضری کا شوق تڑپائے تو وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت کے بھروسے پر اس طرح تیاری کرے کہ دِل و دماغ، زَبان و آنکھ اور ہر عُضْو کا قُفلِ مدینہ لگائے یعنی اپنے تمام اَعضا کو گناہوں سے بچانے کی بھر پور سعی کرے۔اپنے اَندر اِخلاص پیدا کرے اور رِیاکاری لانے والے اَسباب سے بچے۔عاشقانِ رسول کے
________________________________
1 - تفسیرِکبیر، پ۸، الاعراف، تحت الآیة : ۲۲، ۵ / ۲۲۰ دار احیاء التراث العربی بیروت