Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 10 :سفرِ مدینہ کے مُتَعَلِّق سُوال جواب
27 - 36
	 مَسائل سے بھی   ناواقف ہیں یہی وجہ ہے کہ خَرید و فروخت کے دوران بہت ساری خلافِ شرع باتوں کا اِرتکاب کر بیٹھتے ہیں ۔(1) 
رہی بات سفرِ حج کے لیے خَریداری کرنے  کی تو اس میں اور زیادہ اِحتیاط کی حاجت ہے۔کوئی چیز خَریدتے وقت اس کا بھاؤ کم کروانے کے لیے حُجَّت (Bargaining) کرنا سُنَّت ہے مگر سفرِ حج کے لیے جو چیز خَریدی جائے اس میں بھاؤ کم نہیں  کروانا چاہیے کہ اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:بھاؤکے لئے حُجَّت کرنا بہتر ہے بلکہ سُنَّت۔ سِوا اس چیز کے جو سفرِ حج کے لئے خریدی جائے۔ اس میں بہتر یہ ہے کہ جو مانگے دے دے۔(2) خوش نصیب ہیں وہ حاجی جو اس مبارَک سفر کے لیے خَریدی جانے والی چیزوں کا بھاؤ کم کروانے کے بجائے مُنہ مانگی رقم ادا کر کے مانگنے والوں کو  خوش کر دیا کرتے ہیں۔ 
اِسی طرح سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے نام پر قربان کیے جانے والے جانور کی خَریداری میں بھی عُشَّاق کے اَنداز نرالے ہوتے ہیں۔ وہ اس جانور کے بھی دام کم کروانے کے بجائے مُنہ مانگے دام ادا



________________________________
1 -    خرید و فروخت کے تفصیلی مَسائل جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارےمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ  بہارِ شریعت جلد دُوُم کے حصّہ11اور جلد سوم کے حصّہ 16کا مطالعہ کیجیے اِنْ شَآءَ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ معلومات کا انمول خزانہ ہاتھ آئے گا ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)  
2 -    فتاویٰ رضویہ ، ۱۷  /  ۱۲۸