کا سیکھنا بھی فرض ہے۔ جو خود عقائدِ صحیحہ اور حج کے مَسائلِ ضَروریّہ کا عِلم نہیں رکھتا اُسے تنہا یا عوامُ النَّاس کے قافلے میں سفرِ حج کرنے کے بجائے کسی قابلِ اطمینان مُتّقی اور محتاط فی الدِّین مُتَصَلِّب سُنّی عالِم کے ہمراہ سفر کرنا چاہیے۔(1)
خَرید و فروخت کے مَسائل سیکھنا بھی فرض ہیں
سُوال:حج و عمرہ کےلیے خَریداری کرنے والوں کے لیے کچھ مدنی پھول اِرشاد فرما دیجیے۔
جواب:جس طرح سفرِ حج کرنے والوں کےلیے حج کے اَحکام سیکھنا فرض و ضَروری ہے یونہی خرید و فروخت کرنے والوں کے لیے خَرید و فروخت کے مَسائل سیکھنا بھی ضَروری ہے چاہے وہ خَرید و فروخت سفرِ حج کی ہو یا کوئی اور ۔ایک زمانہ وہ تھا کہ ہر مسلمان اتنا علم رکھتا تھاجو اس کی ضَروریات کو کافی ہوتا یہاں تک کہ اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حکم فرما دیا تھا کہ ہمارے بازار میں وہی خَرید و فروخت کریں جو دِین میں فقیہ(عالم ) ہوں۔ (2) فی زمانہ علمِ دِین سے دُوری اور جہالت کے سبب لوگ خَریدوفروخت کے
________________________________
1 - حج و عمرہ کے اَحکام سیکھنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل کے چھٹے حصّے اور شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارقادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تصانیف’’رفیقُ الحرمین“ اور ”رَفیقُ المعتمرین“ کا مطالعہ کیجیے، اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کتابوں کا مُطالعہ سفرِ حج وعمرہ کے دوران شرعی رہنما ئی کے لیے بےحد مُفید ثابت ہو گا۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
2 - ترمذی، کتاب الوتر، باب ماجاء فی فضل الصلاة...الخ، ۲ / ۲۹، حدیث : ۴۸۷ دارالفکر بیروت