تو اس کے، تاجِر کو تجارت کے، خریدار کو خریدنے کے، نوکری کرنے والے اور نوکر رکھنے والے کو اِجارے کے، وَعَلٰی ھٰذَا الْقِیَاس (یعنی اور اسی پر قِیاس کرتے ہوئے) ہر مسلمان عاقِل و بالِغ مَرد و عورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عَین ہے۔اِسی طرح ہر ایک کے لیے مَسائلِ حلال و حرام بھی سیکھنا فرض ہے۔ نیز مَسائلِ قلب (باطِنی مَسائل) یعنی فرائض ِ قَلبِیہ (باطِنی فرائض) مَثَلًا عاجِزی و اِخلاص اور توکُّل وغیرہا اور ان کو حاصِل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مَثَلًا تکبُّر، رِیاکاری، حَسَد، بدگمانی، بغض و کینہ، شَماتَت (یعنی کسی کی مصیبت پر خوش ہونا) وغیرہا اور ان کا علاج سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔(1)
اکثر حج و عمرہ پر جانے والے لوگ حج و عمرہ کے اَحکام پڑھتے ہی نہیں اگر پڑھ یا سُن لیں تو بھی حافظے کی کمزوری کے باعِث بھول جاتے ہیں اور اِس قدر اَغلاط کی کثرت کرتے ہیں کہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ! گناہوں پر گناہ اور کفّاروں پر کفّارے واجب ہوتے چلے جاتے ہیں مگر حقیقی ندامت نہ گناہوں سے بچنے کا صحیح معنوں میں ذِہن اور نہ ہی کفّاروں کی اَدائیگی کے لیے رقم خرچ کرنے کا جگر۔ یاد رکھیے!جَہالت(یعنی نہ جاننا)عُذر نہیں بلکہ جہالت بذاتِ خود گناہ ہے لہٰذا جس پر نَماز، روزہ ، زکوٰۃ اور حج فرض ہے اُس کے لیے ان کے متعلقہ ضَروری اَحکامات
________________________________
1 - نیکی کی دعوت ، ص ۱۳۶مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی