Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 10 :سفرِ مدینہ کے مُتَعَلِّق سُوال جواب
24 - 36
	عموماً خُوشبو والا صابُن رکھا ہوتا ہےعُلمائے کرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے اس کے اِستعمال کو  بھی  جائز قرار دیا ہے لہٰذا مُحْرِم کے لیے خُوشبودار  صابن کے اِستِعمال کرنے میں کوئی حَرج نہیں ۔ (1) 
حج کے اَحکام سیکھنا فرض ہیں 
سُوال: کیا حج  کرنے والوں کے لیے حج کے اَحکام سیکھنا ضَروری ہیں؟   
جواب:جی ہاں! حج کرنے والوں کے لیے حج  سے متعلق  ضَروری مَسائل و اَحکام سیکھنا فرض ہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے:طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَةٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔(2)اِس حدیثِ پاک سے اسکول کالج کی مُرَوَّجَہ  دُنیوی تعلیم نہیں بلکہ ضَروری دِینی عِلم مُراد ہے لہٰذا سب سے پہلے اسلامی عقائد کا سیکھنا فرض ہے،  اس کے بعدنَماز کے فرائِض و شَرائِط و مُفسِدات (یعنی نَماز کس طرح دُرُست ہوتی ہے اور کس طرح ٹوٹ جاتی ہے) پھر رَمَضانُ المبارک کی تشریف آوَری ہو تو جس پر روزے فرض ہوں اُس کے لیے روزوں کے ضَروری مَسائل، جس پر زکوٰة فرض ہو اُس کے لیے زکوٰة کے ضَروری مَسائل، اسی طرح حج فرض ہونے کی صورت میں حج کے،  نکاح کرنا چاہے 



________________________________
1 -    مزید تفصیلات جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ”اِحْرام اور خُوشبودار صابن“ کا مطالعہ کیجیے۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ) 
2 -    اِبن ماجه، بابُ فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلٰى طَلَبِ الْعِلْمِ، ۱  /  ۱۴۶، حدیث : ۲۲۴  دارالمعرفة  بیروت