Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 10 :سفرِ مدینہ کے مُتَعَلِّق سُوال جواب
22 - 36
	نیت کر لے تو ضمناً کھانا پینا اور سونا بھی  جائز ہو جائے گا۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت،  امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:صحیح ومعتمد یہ ہے کہ مسجد میں کھانا پینا،  سونا سِوا معتکف کے کسی کو جائز نہیں، مُسافر یا حَضَری (مقیم) اگر چاہتا ہے تو اِعتکاف کی نیت کیا دُشوار ہے اور اس کے لئے نہ روزہ شرط نہ کوئی مُدّت مقرر ہے،  اعتکافِ نفل ایک ساعت کا (بھی) ہو سکتا ہے۔(1) 
مزید فرماتے ہیں:ظاہر ہے کہ مسجدیں سونے کھانے پینے کو نہیں بنیں تو غیر معتکف کو ان میں ان اَفعال کی اِجازت نہیں اور بِلاشُبہ اگر ان اَفعال کا دروازہ کھولا جائے تو زمانہ فاسِد ہے اور قُلوب اَدَب وہیبت سے عاری،  مسجدیں چو پال ہو جائیں گی اور ان کی بے حُرمتی ہو گی ، وَکُلُّ مَا اَدّٰی  اِلٰی  مَحْظُوْرٍ مَحْظُوْرٌ (اور  ہر وہ شے جو ممنوع  تک پہنچائے ممنوع ہو جاتی ہے۔)(2) 
معتکف کو بھی مسجد میں کھانے پینے کی اسی  صورت میں اِجازت ہے کہ اتنا زیادہ کھانا نہ ہو جو نماز کی جگہ گھیرے اور نہ ہی  کھانے پینے کی کسی چیز سے مسجدآلودہ ہو  ورنہ جائز نہیں چنانچہ فتاویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 94 پر  ہے:”مسجد میں اتنا کثیر کھانا لانا کہ نماز کی جگہ گھیرے اور ایسا اَکل و شُرب (یعنی کھانا پینا) جس سے اس کی تلویث ہو مطلقاًناجائز ہے اگر چہ معتکف ہو۔“نیز رَدُّالمحتار میں ہے: ظاہر یہی ہے



________________________________
1 -    فتاویٰ رضویہ ، ۸  /  ۹۵ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور 
2 -    فتاویٰ رضویہ، ۸  /  ۹۳