کو اس طرح کھا جاتی ہیں جس طرح آگ لکڑی کو۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ مَساجد میں دُنیوی باتیں کرنا، ہنسنا اور آوازیں بلند کرنا وغیرہ آخرت کے لیے کس قدر تباہ کن ہیں! مسجدینِ کریمین میں ایسا کرنے والے حجاج وغیرہ کو ڈر جانا چاہیے کہ جب عام مَساجد کے تقدُّس کو پامال کرنے کی یہ وعیدیں ہیں تو مسجدینِ کریمین کی بےحُرمتی کی وعیدیں تو ان مقدَّس مقامات کی عظمت کی وجہ سے اور زیادہ سخت ہیں کیونکہ مَسجدینِ کریمین تو دُنیا کی تمام مَساجد سے اَفضل و اعلیٰ ہیں جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250صفحات پرمشتمل کتاب، ’’ بہارِ شریعت“جلد اوّل صَفْحَہ 649 پر ہے:سب مسجدوں سے اَفضل مسجدِ حرام شریف ہے، پھرمسجدِ نبوی، پھر مسجدِ قدس، پھرمسجدِ قبا، پھر اور جامع مسجدیں، پھر مسجدِ محلّہ، پھر مسجدِ شارع۔
مسجدینِ کریمین میں کھانا پینا کیسا ؟
سُوال:مسجدینِ کریمین (یعنی مسجد حرام اور مسجدِ نبوی شریف)میں کھانا پینا کیسا ہے ؟
جواب:مسجدینِ کریمین (یعنی مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی شریف) ہوں یا کوئی اور مسجد ان میں کھانا پینا اور سونا سِوائے معتکف کے کسی اور کے لیے شَرْعاً جائز نہیں۔ اگر کسی کو مسجد میں کھانے پینے اورسونے کی حاجت ہے تو اُسے چاہیے کہ وہ نفلی اِعتکاف کی
________________________________
1 - الاشباہ والنظائر، الفن الثالث ، القول فی اَحکام المسجد، ص ۳۲۱ دار الکتب العلمیة بيروت