Brailvi Books

پُلْ صراط کی دہشت
34 - 35
’’پُلْ صِراط کی دہشت‘‘ ( کیسٹ) نے کایا پلٹ دی
	قُصُور(پنجاب ، پاکستان)کے ایک اسلامی بھائی مُتَعدَّد اَخلاقی بُرائیوں میں مبتلا تھے ۔ فلمیں ڈرامے دیکھنا ، کھیل کود میں وَقْت برباد کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا ۔ ایک مرتبہ رَمَضانُ الْمبارَک تشریف لایا تو ان کو بھی نَمازوں کے لئے مسجِد میں حاضِری کی سعادت ملنے لگی۔ وہاں دعوتِ اسلامی کے ایک ذمّے دار اسلامی بھائی فیضانِ سنّت سے درس دیتے تھے ۔ درس کے بعد وہ خوب مسکرا کر پر جوش طریقے سے ملاقات کیا کرتے ، ان کے اِس انداز سے یہ بَہت مُتَأَثِّرہوئے۔ بالخصوص مبلّغِ دعوتِ اسلامی کا’’پیارے پیارے اسلامی بھائیو‘‘کہنا کافی دیر تک ان کے کانوں میں رس گھولتا رہتا۔ ایک دن وہ انہیں بڑے پرتپاک انداز میں ملے اور  دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنَّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی ،  انہوں نے نیّت کرلی۔ جمعرات آنے سے پہلے ہی انہیں دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کے جاری کردہ بیان کا کیسٹ ’’پل صراط کی دہشت‘‘ کہیں سے مُیسَّر آگیا۔ انہوں نے توجُّہ سے بیان سننا شروع کیا۔ ’’پُل صراط‘‘ کانام تو انہوں نے پہلے بھی سن رکھا تھا مگرپُل صراط عبور کرنے کا مرحلہ اتنا دہشت ناک ہے ، اِس کا پتا انہیں یہ بیان سن کر چلا ۔ جب انہوں نے اپنے گناہوں ، پھرناتواں یعنی کمزور بدن کی طرف نظر کی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور سوچنے لگے کہ میں پُلْ صراط کیونکر پار کرسکوں گا! چُنانچِہ انہوں نے اپنے ر بِّ کریم کی نافرمانیوں سے توبہ کر کے سُدھرنے کا پختہ ارادہ