Brailvi Books

پُلْ صراط کی دہشت
30 - 35
یہ واقِعہ نیا نہیں ہے
      پیارے پیارے اسلامی بھائیو! خدا کی قسم ! اس تازہ ترین قِصّے میں ہمارے لئے عبرت عبرت اور سراسر عبرت ہے ، کیا اب بھی ہم توبہ پرآمادہ نہیں ہوں گے ؟ بربادی او ر ویرانی کا یہ واقعہ کوئی نیا نہیں ، ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے جس کی خبر ہمیں خود اللہ پاک کی سچّی کتاب دے رہی ہے ، البتّہ قراٰنی واقعات اور موجودہ تباہی کے واقعات میں یہ فرق ہے کہ قراٰنِ کریم میں بیان کردہ واقعات میں تباہی و بربادی کا عذابِ الٰہی ہونا ہمیں یقینی طور پر معلوم ہے اور موجودہ واقعات میں عذاب ہونے یا نہ ہونے دونوں کا احتمال (یعنی پہلو) ہے لیکن اتنی بات تو یقینی ہے کہ جو لوگ اِن طوفانوں ، سیلابوں میں مرگئے یا مر جائیں گے ان کی دنیا ختم ہوگئی اور آخرت کا مرحلہ شروع ہوگیا نیز توبہ و نیکیوں کی مہلت بھی ختم ہوگئی لہٰذا ہمارے لئے ان موجودہ واقعات میں بھی عبرت یقینا موجود ہے۔ چُنانچِہ پارہ 25 سُوْرَۃُ الدُخَانکی آیت 25 تا29 میں ارشادِ قراٰنی ہے : 
كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ(۲۵) وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ(۲۶) وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ(۲۷) كَذٰلِكَ- وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ(۲۸) فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠(۲۹)
 ترجَمۂ کنزالایمان : کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے اور کھیت اورعمدہ مکانات اور نعمتیں جن میں فارِغُ البال تھے۔  ہم نے یونہی کیا اور ان کا وارِث دوسری قوم کو کر دیا تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے اور انہیں مُہلَت نہ دی گئی۔