سمندری زلزلہ) آیا اور اُس نے منٹوں میں اِس ہنستے بستے شہرکو ملبے کا ڈھیر بنادیا۔ سونامی اپنے ساتھ نہ صرف اِس شہر کی خوب صورتی اور شادابی لے گیا بلکہ ہزاروں خاندانوں کو تباہ اور ہزاروں کو اَدھورا چھوڑ گیا۔ ایک غیر سرکاری اِنڈونیشی تنظیم کے اَعداد و شمار کے مطابِق ساڑھے تین لاکھ کی آبادی کے ’’بندہ آچے ‘‘ کی تقریباً 60فی صد آبادی سونامی کی بھینٹ چڑ ھ چکی ہے ۔ اس شہر میں ابھی تک جگہ جگہ لاشیں بکھری پڑی ہیں اور روزانہ ہزاروں لاشوں کو اجتماعی طور پر دفن کیا جارہا ہے ۔ جو سونامی سے بچ گئے ہیں وہ کیمپوں میں سسکتے ہوئے اپنے بچھڑنے والوں کو یاد کر رہے ہیں ۔ یہاں بَہُت سے افراد ایسے ہیں جو اپنا پورا خاندان کھوچکے ہیں ، ان کی آنکھوں میں موجود حسرت اور تلاش شاید کبھی ختم نہیں ہوگی ، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں کو موت کے منہ میں جاتے دیکھا ، ان کے دکھ کی گہرائی کا اندازہ لگایا ہی نہیں جاسکتا ۔ پہلے زلزلے نے شہر کو ہلاکر رکھ دیا اور پھر سونامی نے وہ تباہی مچائی جو اس نسل نے دنیا میں کہیں نہیں دیکھی ۔ کہتے ہیں ، اگر یہ طوفان دن کے بجائے رات کو آتا تو جو بچ گئے ہیں شا ید وہ بھی نہ بچ پاتے ، سونامی جہاں جہاں سے گزرا راستے میں آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کرتا چلاگیا اور اپنے پیچھے صِرف تباہی اور موت چھوڑ گیا۔ ’’بندہ آچے‘‘ کے وَسط(یعنی درمیان) میں بہنے والا یہ پر سکون دریا شِمال سے جنوب کی طرف بہتا ہے لیکن سونامی کے چنگھاڑتے ہوئے طوفان نے اِسے جنوب سے شمال کی سمت بہنے پر مجبور کردیا ۔