صرف بوڑھوں ، کینسر یا ہارٹ کے مریضوں ہی کو آتی ہے ایسا نہیں ، روزانہ نہ جانے کتنے ہی کڑیل جوان حادِثات کا شکار ہوکر اچانک موت کے گھاٹ اُتر جاتے ہیں ۔ سیلاب و زلزلے کے ذَرِیعے بھی اچانک موت آدبوچتی ہے۔
2لاکھ 20 ہزار سے زائد اموات
ابھی پچھلے ہی دنوں کی بات ہے ، سونامی(سمندری زلزلے ) کی یہ آفت ، جو کہ بالکل اچانک ہی نازِل ہوئی تھی ، 20-1-2005کے جنگ اخبار کی خبر کے مطابِق اِس آفت سے گیارہ مَمالِک میں مرنے والوں کی تعداد 2لاکھ20ہزار سے زائد ہے ، یہ حادِثہ سراپا عبرت ہے ، اِس نے ساری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا مگر آہ! گناہوں میں کمی آنے کا نہیں سنا گیا! عبرت کی خاطر ’’ روزنامہ جنگ‘‘ 20-1-2005کا ایک آرٹیکل حسبِ ضرورت تصرف کے ساتھ پیش کرتا ہوں :
سَمُندری زلزلے کی تباہ کاریاں
’’انڈونیشیا‘‘ کے صوبے ’’آچے ‘‘کا دارالحکومت بندہ آچے ’’سونامی‘‘ یعنی سَمُندری زلزلے سے سب سے زِیادہ مُتَأَ ثِّر ہوا ۔ صِرف اِس شہر میں مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ چکی ہے ۔ ’’بندہ آچے‘‘ میں موجود صحافی نے اس شہر کی تباہی کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سرسبز و شاداب ، خوب صورت اور زندَگی سے بھرپور شہر کوئی اور نہیں 26دسمبر 2004ء سے پہلے کا بندہ آچے ہے ، پھر سونامی ( یعنی