توبہ میں تاخیر انتہائی خطرناک ہے ، ہوسکتا ہے میری اِس بات پرشیطان فوراً وسوسہ ڈالنے لگا ہو کہ میں تجھے توبہ سے کہاں روکتا ہوں بے شک فوراً اور ابھی ابھی توبہ کرلے ۔
قَبولیّتِ توبہ کی تین شرائط
ارے میرے بھولے بھالے اسلامی بھائیو! گالوں پر چند بار ہلکی ہلکی چپت مار لینے کا نام توبہ نہیں ۔ توبہ کے تین رُکْن ہیں اگر ان میں سے ایک بھی رُکن(رُکْ۔ نْ) کم ہو تو پھر توبہ قَبول نہیں ہوگی۔ وہ تین رُکن یہ ہیں : (۱) اعترافِ جرم(۲)ندامت(یعنی کئے ہوئے گناہ پر شرمندگی)(۳) عزمِ ترک۔ یعنی گناہ چھوڑنے کا عزم ، نیز اگر گناہ قابلِ تلافی ہوتو اُس کی تلافی بھی لازِم ، مَثَلاً بے نمازی کی توبہ اُسی وقت سچی توبہ کہلائے گی جبکہ رہ جانے والی نَمازوں کی قضا بھی کرے ۔ کسی کا مال یا پیسے چھین یا دبالئے تھے تو توبہ اُسی صورت میں مکمَّل ہوگی جبکہ اُس کو لوٹائے یا اُس سے مُعاف کروائے۔ خالی SORRY کہہ دینا یا اوپری طور پرمُعافی مانگ لینا کافی نہیں ہوتا جب تک صاحِبِ حق مُعاف نہ کردے ، ہاں اگر صاحِبِ حق فوت ہوچکا ہے تو اُس کے وُرَثا کو پیسے لوٹائے اگر ورثا بھی نہ رہے ہوں یا کچھ معلوم ہی نہیں کہ کس کس کے پیسے کھاڈالے تھے تو اُتنی رقم کسی فقیر یا مسکین کو خیرات کردے۔ حقوق العباد کے ان اَحکامات کی تفصیلی معلومات کیلئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِداریمکتبۃُ الْمدینہ کا رسالہ ’’ظلم کا انجام‘‘ پڑھئے۔
آہِستہ آہِستہ نہیں فوراً اصلاح ہونی چاہئے
بہرحال آہستہ آہستہ سدھرنے کا ذِہن بنائے رکھنا خطرناک ہوتا ہے کہ موت