Brailvi Books

پُلْ صراط کی دہشت
26 - 35
ہے ، جھوٹا جھوٹ بولنا ترک کرنے کا عزم کرتا ہی نہیں ، سود ، رشوت ، حرام کمائی اور دھوکے بازی کا خوگر یہ کام چھوڑتا ہی نہیں ، پرائی عورَتوں اور اَمردوں کے ساتھ بدنگاہی کرنے والا ، فلم بینی اور گانے باجوں کا رَسیااپنے گناہوں سے بچنے کا حقیقی ذِہن بناتا ہی نہیں ، غیر شرعی لباس پہننے والا ، لوگوں پر ظلم کرنے والا ، زانی ، شرابی ، ماں باپ کو ستانے والا ، بال بچوں کو شریعت و سنت کے مطابق تربیت نہ دینے والا ، بے نمازیوں اور ماڈَرن دوستوں کی تباہ کن صحبتوں میں بیٹھنے والا وغیرہ وغیرہ اپنے اپنے گناہوں پر حسبِ معمول قائم رَہتا ہے)
آہِستہ آہِستہ نہیں ایک دم گناھوں کو چھوڑ دے
       اے عاشقانِ رسول! بے شک جذبات میں آکر عارِضی طور پر رونا اور توبہ کرنا بھی اگر بربنائے اِخلاص ہے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ضرور رنگ لائے گا ۔ اپنا ذِہن بنائیے کہ میں نے اپنے آپ کو لازمی سُدھارنا ہے ، اپنے گناہوں کو یاد کرکے نَدامت کے ساتھ رو رو کر توبہ وعہد کیجئے کہ اب اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ میں فلاں فلاں گناہ نہیں کروں گا ۔ خبردار! یہاں شیطان آپ کو مشورہ دے گا کہ جذباتی فیصلہ اچھا نہیں ہوتا اپنی اصلاح آہستہ آہستہ کرنی چاہئے ، ایک دم سے ہی مولوی مَت بن جانا ، ہاتھوں ہاتھ سنتوں کی تربیت کے مَدَنی قافلے میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سفر کرنا مناسب نہیں ، بس دھیرے دھیرے کوشِش جاری رکھ ، ابھی تو ساری زندَگی پڑی ہے ، ابھی تو تیری عُمر ہی کیا ہے ! ابھی تو تیری شادی بھی نہیں ہوئی ، شادی کے بعد داڑھی بڑھا لینا بلکہ حج کیلئے جانا تو مدینۂ منوّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً سے داڑھی رکھ کر آنا ، جب بوڑھا ہوجائے تو عمامہ سجالینا وغیرہ وغیرہ۔ اے عاشقانِ رسول! خد ا کی قسم ! یہ شیطان کا بہت ہی خطر ناک وار ہے ۔