(عارِضی طور پر) دل نرم پڑجائے اور آنسوبہنے لگیں پھر جلد ہی سب کچھ بھول کر بندہ لَھْو و لَعِب (یعنی کھیل کود) میںمشغول ہوجائے۔ خوف کااِس طرح کے رونے دھونے سے کوئی تعلُّق نہیں بلکہ انسان جس چیز سے ڈرتا ہے اُس سے دُور بھاگتاہے اور جس چیز سے رغبت رکھتا ہے اُس کی طلب بھی کرتا ہے ، پس آخرت میں آپ کو وہی خوف نجات دلائے گا جو کہ اللہ کریم کی اطاعت و فرماں برداری پر آمادہ کرے اور نافرمانی اور گناہوں سے باز رکھے ۔
بے وُ قُوفوں والا خوف
نیزعورَتوں کے(کمزور دلی ) والے خوف سے بھی بڑھ کر بے وُقُوفوں والا خوف ہے کہ جب وہ (قیامت کے )ہول ناک مناظر کے بارے میں ( کوئی بیان وغیرہ )سنتے ہیں تو فوراً اُن کی زَبان پر اِستعاذَہ(اِس۔ تِ۔ عَاذَہ) یعنی پناہ مانگنے والے کلمات جاری ہوجاتے ہیں اور وہ کہنے لگتے ہیں : میں اللہ پاک کی مدد چاہتا ہوں ، یا اللہ پاک ! مجھے بچالے ! بچالے! وغیرہ ، اس کے باوجود وہ گناہوں پر ڈٹے رہتے ہیں جو اِن کی ہلاکت کا باعث ہیں ، شیطان ان کے پناہ مانگنے پر ہنستا ہے۔ (1) (یعنی یہ سب صِرف جذباتی اور عارِضی الفاظ ہوتے ہیں ، خوفِ حقیقی کی وجہ سے نکلے ہوئے نہیں ہوتے ۔ ان کو جذباتی اور عارِضی الفاظ اِس لئے کہا جا رہا ہے کہ ایک طرف پناہ بھی مانگ رہے ہوتے ہیں مگر دوسری طرف گناہوں پرمثلِ سابق(یعنی پہلے ہی کی طرح) دِلیری بھی موجود رَہتی ہے ، گناہ کو ترک کردینے کا عزم نہیں ہوتا۔ مَثَلاً بے نمازی ہے توبے نَمازی اور داڑھی مُنڈا داڑھی مُنڈا ہی رَہتا
________________________________
1 - اِحیاءُ الْعُلوم ج۵ ص۲۸۶۔ ۲۸۷مُلَخَّصاً