ہوگی ، بے شمار لوگ پل صراط سے پھسل کر جہنَّم میں جاپڑیں گے ، تو سوچ تو سہی اگر تیرا قدم بھی پھسل گیا تو تیرا کیا بنے گا ! اُس وقت کی شرم و ندامت تجھے کچھ فائدہ نہ دے گی ، اُ س وقت تیری حسرت بھری فریادکچھ اِس طرح ہوگی : ’’آہ! میں اِسی دن سے ڈرتا تھا ، ہائے کاش! میں اپنی آخرت کیلئے کچھ آگے بھیجتا ، اے کاش! میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ، ہائے کاش! میں فلاں کو دوست نہ بناتا ، اے کاش! میں مٹی ہوجاتا ، اے کاش! میں بھولا بسرا ہوجاتا ، اے کاش! میری ماں ہی مجھے نہ جنتی ۔ ‘‘ ( اِحیاءُ الْعُلوم ج۵ص۲۸۵ مُلَخّصاً )
کاشکے نہ دنیا میں پیدا میںہوا ہوتا قبر و حشر کا ہر غم ختم ہو گیا ہوتا
کاش! ایسا ہوجاتا خاک بن کے طیبہ کی مصطَفٰے کے قدموں سے میں لپٹ گیا ہوتا
آہ! سلبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے
کاشکے مری ماں نے ہی نہیں جنا ہوتا
کون وہاں بے خوف رہے گا
حُجّۃُ الاسلام امام محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی مزید فرماتے ہیں : قیامت کے ہوشربا حالات میں وُہی شخص زِیادہ محفوظ ہوگا جو دنیا میں اِس کے معاملے میں زِیادہ فکر مند(یعنی خوف زَدہ)رہاکرے گا ، کیوں کہ اللہ پاک کسی پر دو خو ف جمع نہیں کرتا لہٰذا جو آدَمی دنیا میں پُل صراط اور قیامت کے بھیانک حالات سے ڈرا وہ آخر ت میں اِن سے نجات پالے گا ۔ اور خوف سے ہماری مُراد عورَتوں والا(کمزور دلی والا)خوف نہیں کہ سنتے ہی