Brailvi Books

پُلْ صراط کی دہشت
23 - 35
میں صراطِ مستقیم(یعنی سیدھے رستے) پر قائم رہا وہ بروزِ قِیامت پُل صراط پر ہلکا پھلکا ہوکر نجات پالے گا اور جودنیا میں استِقامت سے ہٹ گیا ، نافرمانیوں اور گناہوں کے سبب اُس کی پیٹھ بھاری ہوئی تو پہلے ہی قدم میں پُل صِراط سے پھسل کر گر پڑے گا ۔ اے بندۂ ناتواں ! ذرا غور تو کرجب تو پُل صراط اور اُس کی باریکی کودیکھے گا تو کس قَدَر گھبرائے گا ، پھر اُس کے نیچے جہنَّم کی ہو ل ناک سیاہی پر تیری نظر پڑے گی ، نیچے سے جہنّم کا جوش و خروش سنائی دے گا ، آگ کے بلند شعلوں کی چیخ پکا ر تیرے کانوں سے ٹکرائے گی ، تو سوچ تو سہی! اُس وقت تجھ پر کس قدر دَہشت طاری ہوگی۔ یاد رکھ! تیرا دل چاہے کتنا ہی بے قرارو بے کل ہو ، قدم پھسل رہے ہوں اور پیٹھ پر اِس قَدَر بوجھ ہو کہ اِتنا بوجھ اٹھا کر ہموار زمین پر چلنابھی تیرے لئے دشوار ہو ، تو لاکھ کمزوری کی حالت میں ہو مگر تجھے پُل صراط پر چلنا ہی پڑے گا ، تُو تصور تو کر کہ بال سے باریک اور تلوار کی دھار سے تیز پُل صراط پر نہ چاہتے ہوئے بھی جب تُوپہلا قدم رکھے گا اور اُس کی سخت تیزی کو محسوس کرے گا مگر پھر بھی دوسرا قدم اُٹھا نے پر مجبور ہوگا ، لوگ تیرے سامنے پھسل پھسل کر جہنَّم میں گر رہے ہوں گے ، فرشتے لوگوں کو بڑے بڑے کانٹوں اور لوہے کے آنکڑوں سے کھینچ کھینچ کر جہنَّم میں جھونک رہے ہوں گے ، تو دیکھ رہا ہوگا کہ وہ لوگ روتے چلاتے سر کے بل جہنَّم میں گِرتے جارہے ہیں ، تو سوچ اُس وقت خوف کے مارے تیری کیا حالت بنی ہوگی !
جہنّم میں گرنے والوں کی چیخ پکار
	جہنَّم کی گہرائیوں سے آہ و بُکا اور ہائے !اُوہ! کی چیخ پُکا ر تیرے کانوں میں پڑ رہی