Brailvi Books

پُلْ صراط کی دہشت
22 - 35
مطابق پُل صراط عبور کرے گا ، کوئی تو پلک جھپکنے میں گزر جائے گا ، کوئی بجلی کی طرح ، کوئی بادَل کی مانند ، کوئی ستارے ٹوٹنے کی مثل ، کوئی گھوڑے کے دوڑنے کی طرح تو کوئی آدمی کے دوڑنے کی طرح گزرے گا ۔ جس کو پاؤں کے انگوٹھے کی مثل (مِثْ۔ لْ) نور دیا جائے گا وہ چہرے ، ہاتھوں اور پاؤں کے بل گزرے گا حالت یہ ہوگی کہ ایک ہاتھ بڑھائے گا تو دوسرا اٹک جائے گا ، جب ایک پاؤں اُلجھے گا تو دوسرا پاؤں کھینچ کر بڑھا ئے گااور اُس کے پہلوؤں تک آگ پہنچ جائے گی ، وہ اِسی طرح گر تا پڑتا بالآخر پُل صراط پار کرنے میں کامیاب ہو جائے گا ، وہا ں کھڑے ہوکر اپنے پاک پَروَردَگار کی حمد بیان کرے گا ، پھر اُسے جنت کے دروازے کے قریب ایک کنویں پرغسل دیا جائے گا۔ 	 (اِحیاء  العلوم ج۵ص۲۸۶ملخّصاً)
پل صراط آہ ہے تلوار کی بھی دھار سے تیز 		کس طرح سے میں اسے پار کروں گا یارب
میرے محبوب کے رب ! تیرا کرم ہوگا تو		 پُل کو بجلی کی طرح پار کروں گا یارب
میرا کیا بنے گا!
        اے عاشقانِ رسول! جن خوش بختوں کاایمان پر خاتمہ ہوگا وہ بالآخر نجات پا جائیں گے اور جس کاایمان برباد ہوگیا اور بغیر توبہ وتجدید ایمان مرگیا اُس کی نجات کی کوئی صورت ہی نہیں ۔ ہر ایک کو ڈرنا ضروری ہے کہ نہ معلوم میرا کیا بنے گا ! پُل صراط جہنَّم پر بنا ہوا ہے ، اور اُس پر سے گزرے بغیر جنت میں داخلہ ممکن نہیں ۔ 
پُلْ صراط سے گزرنے کالرزہ خیز تصوُّر 
          حُجَّۃُ الْاِسلام امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیفرماتے ہیں : جو شخص اِس دنیا