Brailvi Books

پُلْ صراط کی دہشت
21 - 35
 منقول ہے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِچالیس سال تک نہیں ہنسے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو بیٹھا ہوا دیکھ کر یوں معلوم ہوتا گویا ایک سہما ہوا قَیدی ہے جسے سَزائے موت سنانے کے بعد گردن اُڑانے کیلئے لایا گیا ہے ! اور جب آ پ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ گفتگو فرماتے تو ایسا محسوس ہوتا گویا آخرت نظروں کے سامنے ہے اور اس کو دیکھ دیکھ کراس کی منظر کشی فرمارہے ہیں اور جب خاموش ہوتے تو ایسا لگتا گویا آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی آنکھوں کے سامنے آگ بھڑک رہی ہے ! جب عرض کی گئی : آپ اِس قدر خو ف زَدہ اور مغموم کیوں رہتے ہیں ؟ فرمایا : مجھے اِس بات کا خوف کھائے جا رہا ہے کہ اگر اللہ پاک  نے میرے بعض ناپسندید ہ اَعمال دیکھ کر مجھ پر غضب فرمایا اور فرمادیا کہ جا میں تجھے نہیں بخشتا تو میرا کیا بنے گا !	 (اِحیاءُ الْعُلوم ج۴ ص۲۳۱)
گرتے پڑتے گزرنے والا 
     حضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی نقل کرتے ہیں : اللہ پاک اگلوں اور پچھلوں کو ایک معلوم دن یعنی بروزِ قِیامت ایک مقام پر جمع فرمائے گا ۔ چالیس سال تک لوگوں کی آنکھیں اُوپر کی طرف لگی رہیں گی ، وہ فیصلے کے مُنتظِر ہوں گے۔ مؤمنوں کو ان کے اَعمال کے مطابِق نور عطا کیا جائے گا ، کسی کو بڑے پہاڑ کی مثل نور  ملے گا اورکسی کو کَھجور کے دَرَخت کی مانند تو کسی کو اِس سے بھی کم حتّٰی کہ ان میں سے آخری شخص کو پاؤں کے انگوٹھے جتنا نور عنایت کیا جائے گا جو کبھی چمکے گا اور کبھی بجھ جائے گا ، جب اُس کا نور چمکے گا تو وہ چلے گا اور جب بجھ جائے گا تو اندھیرے کی وجہ سے رُک جائے گا ۔ پھر ہر ایک اپنے اپنے نور کے