ہر جمعہ کو قبل از خطبہ پڑھ کر سنا دیا کرے ۔ یہ کارڈزیادہ تعداد میں مکتبۃُ المدینہ سے حاصل کر لیجئے اور مسجِد مسجِد پہنچانے کی مَدَنی تحریک چلا دیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ثواب کا انبار لگ جائے گا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایک ہزار سال کے بعد دوزخ سے رِہائی
حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے فرمایا : ایک شخص جہنَّم سے ایک ہزار سال بعد نکالا جا ئے گا ، پھر فرمایا : کاش! وہ شخص میں ہوتا۔ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں : سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے یہ بات اس لئے ارشاد فرمائی کہ جوایک ہزار سال کے بعد نکالا جائے گا اس کے بارے میں یہ بات یقینی ہے کہ اُس کا خاتِمہ ایمان پر ہوا ہوگا ۔ (اِحیاءُ الْعُلوم ج۴ ص۲۳۱)
40 سال تک نہیں ہنسے
اے عاشقانِ رسول! حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے غلبۂ خوف کے سبب ایک ہزار سال کے بعد جہنَّم سے رِہائی پانے والے شخص کے ایمان پر خاتمہ ہو جانے پر رشک کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ کاش! وہ شخص میں ہوتا ۔ آہ! ہزار سال تو بہت ہی بڑی بات ہے ، خدا کی قسم ! ایک لمحے کا کروڑواں حصہ بھی جہنَّم کا عذاب برداشت ہونا ممکن نہیں ۔ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کے غلبۂ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کا عالم تو دیکھئے !