’’ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘ نامی 692صفحات پر مشتمل کتاب نہایت مفید ہے ۔
اذان کے دَوران گفتگو
’’بہارِ شریعت‘‘ میں ہے : جو اذان کے وقت باتوں میں مشغول رہے اُس پر مَعَاذَ اللہ خاتِمہ برا ہونے کا خوف ہے ۔ (بہارِشریعت ج۱ ص۴۷۳) لہٰذا کم از کم پہلی اذان سن کرخاموش رہ کر ہمیں جواب دے دینا چاہیے۔ آج کل مسلمانوں کی اِس طرف توجُّہ کم ہے ، تما م مؤذن صاحبان کو چاہئے کہ وہ پہلے دُرُود و سلام پڑھیں پھر اِس طرح اعلان فرمائیں : ’’عاشِقانِ رسول متوجِّہ ہوں ، اللہ کی رضا کے لیے اذان کا احترام کرتے ہوئے ، گفتگو اور کام کاج روک کر اذان کا جواب دیجئے اورڈھیروں نیکیاں کمایئے۔ ‘‘ اِس کے بعد اذان کہیں ۔
فون کی میوزیکل ٹون
نماز کے دوران بعض لوگ موبائل فون بند کرنا بھول جاتے ہیں اور چونکہ موسیقی سننے جیسے حرام اور جہنَّم میں لے جانے والے کام سے بچنے کا احساس بھی کم رہ گیاہے لہٰذا مَعَاذَ اللہ مسجِد کے اندر طرح طرح کی میوزیکل ٹونز بجنی شروع ہو جاتی ہیں ۔ اوّل تو موسیقی کے منحوس ٹون سے فون کو پاک کیجئے اور اگر موسیقی سننے کا گناہ کیا ہے تو اس سے توبہ بھی کیجئے اورمسجِد میں سادہ ٹون والے موبائل فون بھی بند رکھا کیجئے۔ اِس سلسلے میں اذان و اقامت کے اعلان کا کارڈحاصل کر کے عام کیجئے۔ اسی طرح خطبے کے دَوران ہونے والے گناہوں کی نشان دہی کیلئے بھی ایک کارڈ مکتبۃُ المدینہنے شائع کیا ہے۔ کاش! ہر خطیب