یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْۚ- (پ۲۷ ، الحدید : ۱۳)
ترجَمۂ کنزالایمان : جس دن منافِق مرد اور منافِق عورَتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہمیں ایک نگاہ دیکھو ہم تمہارے نور سے کچھ حصہ لیں ۔
ایمان پر خاتِمے کی گارنٹی کسی کے پاس نہیں
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے ! نجات ایمان پر خاتِمے کے ساتھ مشروط ہے ، فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالْخَوَا تِیْم۔ یعنی ’’اعمال کادارومدار خاتمے پر ہے۔ ‘‘(بُخاری ج۴ ص۲۷۴ حدیث۶۶۰۷) آہ! ہم میں سے کسی کے پاس بھی یہ گارنٹی نہیں کہ اس کا خاتِمہ ایمان ہی پر ہوگا ، اللہ پاک کی خفیہ تدبیر ہمارے بارے میں کیا ہے یقینااِس سے ہم ناواقف ہیں اور یہی سب سے بڑی خوف کی بات ہے ۔ برے خاتِمے کے ڈر سے بڑ ے بڑے اولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام خو ف زَدہ رہتے تھے۔ براہِ کرم! اس کی مزیدمعلومات کے لئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ الْمدینہ کا جاری کردہ ’’ اللہ پاک کی خفیہ تدبیر‘‘ نامی بیان کی کیسٹ سنئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ آپ خوفِ خدا سے لرز اٹھیں گے نیز ’’برے خاتمے کے اَسباب‘‘ نامی 33صفحات پر مشتمل مختصر سارسالہ ہَدِیّۃً حاصِل کرکے ضَرور پڑھ لیجئے اگر دل زندہ ہوا تو ایمان کی حفاظت کی فکر کے جذبے کے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ آپ رو پڑ یں گے۔ آج کل بعض لوگ بات بات پر کفر یات بکتے ہیں ، کلماتِ کفر کا علم حاصل کرنا ہر عاقِل بالِغ مسلمان مرد و عو ر ت پر فرض ہے۔ اِس سلسلے میں