Brailvi Books

پُلْ صراط کی دہشت
17 - 35
مسلمانوں کی دل آزاریوں ، بے نمازیوں اور فیشن پرست برے دوستوں کی نیز شہوت کے باوجود اَمردوں یعنی خو ب صورت لڑکوں کی صحبتوں وغیرہ وغیرہ گناہوں سے باز نہیں آئے گا اس کیلئے لمحۂ فکریہ ہے ۔ اگر اللہ پاک اور اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ناراض ہوگئے اور گناہوں کے سبب ایمان بربا د ہوگیا تو یقینا ناقابلِ برداشت دائمی عذابوں کا سا منا ہوگااور پُل صراط پر نور بھی نہیں ملے گا۔ چنانچِہ
تیرے لئے کوئی نور نہیں!
	حضرتِ سیِّدُنا عبد اللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ’’الزھد‘‘ میں نقل کرتے ہیں : ’’بے شک تم اللہ پاک کے یہاں اپنے ناموں اور نشانیوں اور اپنی سرگوشیوں اور مجلسوں یعنی بیٹھکوں اور صحبتوں سمیت لکھے ہوئے ہو۔ جب قِیامت کا دن آئے گا تو پکار پڑے گی : اے فلاں بن فلاں یہ تیرا نور ہے اور اے فلاں بن فلاں تیرے لئے کوئی نور نہیں ۔ ‘‘
	(الزھد ص۴۶۵رقم۱۳۲۱)
نگاہِ نور کے طلب گار محروم بِھکاری
	منافقین بروزِ قِیامت اِس حال میں آئیں گے کہ اُن کے پاس ایمان کا نورنہیں ہوگا ، خوش نصیب ایمان والوں کا نور دیکھ کر اُن کو حسرت بالائے حسرت ہوگی اور اُن سے نور کی بھیک مانگیں گے مگر محرومِ نور ہی رہیں گے ۔ چُنانچہِ پارہ 27 سُوْرَۃُ الْحَدِیْد  کی تیرھویں آیتِ کریمہ میں اللہ پاک کا فرمانِ عبرت نشان ہے :