’’آنسوئوں کا دریا‘‘ (300 صفحات ) صَفْحَہ 77 سے شروع ہونے والی طویل حکایت کا بعض حصّہ سنئے : (مشہور تابعی بزرگ)حضرتِ سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی لوگو ں کو وعظ ونصیحت کرنے بیٹھے تو لوگ ان کے قریب آنے کے لئے ایک دو سرے کو دھکیلنے لگے ، اس پرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ان کی طرف متو جہ ہوکر فرمایا : اے میرے بھائیو! آج تم میرا قرب پانے کے لئے ایک دوسرے کو دھکے دے رہے ہو ، کل قیامت میں تمہارا کیا حال ہوگا جب پرہیزگاروں کی مجالس قریب ہوں گی جبکہ گناہ گاروں کی مجالس کو دور کردیا جائے گا ، جب کم بوجھ والوں (یعنی نیک لوگوں )سے کہا جائے گا کہ تم پُل صراط عبور کرلو اور زیادہ بوجھ والوں (یعنی گناہ گاروں )سے کہاجائے گا کہ تم جہنَّم میں گرجاؤ ۔ آہ! میں نہیں جانتا کہ میں زیادہ بو جھ والوں کے ساتھ جہنَّم میں گرپڑوں گا یا تھوڑے بو جھ والوں کے ساتھ پُل صراط پار کرجاؤں گا۔ پھرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ رونے لگے یہاں تک کہ آپ پر غشی طاری ہوگئی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے قریب بیٹھے ہوئے لوگ بھی رونے لگے۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ان کی طر ف متوجّہ ہوئے اور پکار کر فرمایا : ’’ اے بھائیو! کیاتم جہنَّمکے خوف سے نہیں رورہے ؟ سن لو کہ جو شخص جہنَّم کے خوف سے روتاہے اللہ پاک اسے اس دن جہنَّم سے آزاد فرمائے گا جس دن مخلوق کو زنجیروں اور بیڑیوں سے کھینچا جارہا ہوگا۔ ‘‘
(بَحرُ الدّموع ص۵۳)
روزانہ فکرِمدینہ کیجئے
اے عاشقانِ رسول!اپنے گناہوں پر نادِم ہوکرسچی توبہ کرکے دعوتِ اسلامی