Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
80 - 412
حکایت نمبر259:              دو عظیم بزرگ
    حضرتِ سیِّدُناحُذَیْفَہ مَرْعَشِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے مروی ہے کہ ''جب حضرتِ سیِّدُنا شَقِیْق بَلْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًا آئے تو حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم بھی وہاں موجود تھے ، دونوں عظیم بزرگ مسجدِ حرام میں جمع ہوئے ۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے حضرتِ سیِّدُنا شَقِیْق بَلْخِی علیہ رحمہ اللہ القوی سے پوچھا: ''رزق کے معاملے میں تمہارا کیا حال ہے؟''فرمایا: ''جب کھانے کو مل جاتاہے تو کھالیتے ہیں، اگر نہ ملے تو صبر کرتے ہیں۔ '' حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے فرمایا:'' یہ حال توہمارے بَلْخ کے کتوں کا ہے کہ جب کھانے کو مل جائے تو کھا لیتے ہیں اور نہ ملے تو صبر کرتے ہیں۔''پھر حضرتِ سیِّدُناشَقِیْق بَلْخِی علیہ رحمہ اللہ القوی نے پوچھا ، ''اچھا، آپ کی اس معاملے میں عادت کیا ہے ؟''فرمایا : ''ہمارا توحال یہ ہے کہ کوئی چیز کھانے کو ملے تو صدقہ کردیتے ہیں اور جب بھوکے رہتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تعریف بجالاتے اورشکر اداکرتے ہیں۔'' جب حضرتِ سیِّدُنا شَقِیْق بَلْخِی علیہ رحمہ اللہ القوی نے یہ سنا توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے بیٹھ گئے اورکہا: ''اے ابواِسحاق علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق !آج سے آپ ہمارے اُستاذ ہیں۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر260:             اچانک دیوارشق ہوگئی
    حضرتِ سیِّدُنااحمدبن محمد صوفی علیہ رحمۃاللہ القوی سے مروی ہے کہ میں نے اپنے استاذ حضرتِ سیِّدُنا ابو عبداللہ بن ابوشَیْبَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا :'' ایک مرتبہ میں بیْتُ الْمُقَدَّسْ میں تھا۔ میری خواہش تھی کہ آج رات مسجد میں ہی قیام کروں اور تنہا عبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مصروف رہوں۔ لیکن مجھے وہاں رات گزارنے کی اجازت نہ ملی۔ کچھ دنوں بعد دوبارہ مسجد میں گیا تو بر آمدے میں کچھ چٹائیاں رکھی دیکھیں ، میں عشاء کی نمازِ باجماعت ادا کرکے چٹائیوں کے پیچھے چھپ گیا ۔ نمازیوں کے چلے جانے کے بعددروازے بند کردئیے گئے۔ جب مجھے اطمینان ہوگیا کہ اب کوئی نہیں تو میں صحن میں آگیا۔ اچانک محراب کی دیوار شق ہوئی اور ایک شخص اندر داخل ہوا پھر دوسرا اور تیسرا اسی طر ح سات آدمی وہاں جمع ہوکر نماز پڑھنے لگے۔ انہیں دیکھ مجھ پر ہیبت طاری ہورہی تھی۔ میں سکتہ کے عالم میں اپنی جگہ کھڑا اِنہیں دیکھتا رہا۔ پھرصبح صادق سے کچھ دیر قبل وہ جس راستے سے آئے تھے اسی سے باہر چلے گئے پھر دیوار برابر ہوگئی۔ ''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
Flag Counter