Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
404 - 412
ہے۔انسان کویہ بات زیب نہیں دیتی کہ نہ توگناہوں سے بچے اورنہ ہی کبھی نیک عمل کرے،اور پھر بھی رحمت و مغفرت کی آس پرسب نیک اعمال ترک کردے اورخوب گناہ کرے ۔سمجھدارشخص ایسی نارَواحرکت کبھی نہیں کرتا،مجھے سخت تعجب ہو تا ہے ان لوگوں پرجواپنی برائیاں مخلوق سے توچھپاتے ہیں لیکن خالقِ کائنات عَزَّوَجَلَّ سے حیا کرتے ہوئے کبھی کوئی گناہ ترک نہیں کرتے حالانکہ وہ پروردگارعَزَّوَجَلَّ رزق دینے والااوروہی جزاوسزادینے والا ہے۔ کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہوکہ تمہیں وہ مصیبت پہنچے جو ''راہب''کوپہنچی تھی؟''سرداروں نے کہا:ہمیں بتائیے کہ '' راہب ' ' کو کیا مصیبت پہنچی تھی؟''
بنا وٹی راہب کی ہلاکت
     کہاجاتا ہے کہ'' ایک شخص شہد،گھی،تیل اورشراب بیچاکرتاتھا۔خریدتے وقت توصاف ستھری اور خالص چیزیں خریدتالیکن بیچتے وقت خوب ملاوٹ کرتااورمہنگے داموں بیچتا۔اس کی داڑھی بہت پیاری وحسین تھی جوبھی اسے دیکھتاتوکہتاکہ تجھے توبہت بڑاراہب ہوناچاہے تیری داڑھی بالکل راہبوں جیسی ہے ۔لوگوں کی بات سن کراس شخص کے دل میں یہ بات آئی کہ'' مجھے رہبانیت کاراستہ اختیارکرناچاہے تاکہ لوگوں میں میری قدرومنزلت بڑھ جائے۔''چنانچہ اس نے اپنی بیوی سےکہا:'' لوگ میری داڑھی کی خوب تعریف کرتے ہیں لیکن میرے عمل سے بے خبرہیں،اگرمیں رہبانیت کا راستہ اختیا کر لو ں توخوب مالامال ہوجاؤں گااورلوگوں میں میرامرتبہ بلندہوجائے گا۔''یہ سن کراس کی زوجہ نے روتے ہوئے کہا: ''کیا تُو مجھے بیواؤں اور اپنے بچوں کویتیموں کی طرح کردے گا۔''اس نے کہا:''تیراناس ہو!میں عبادت کی نیت سے کب رہبانیت اختیار کرر ہا ہوں ۔میں تو یہ چاہتاہوں کہ لوگوں میں میرامرتبہ بلندہواورمیں اپنی قوم کامُعَزَّزشخص بن جاؤں۔''عورت نے کہا:''کہیں ایسا نہ ہوکہ جب تُو راہبوں سے ملے اور تجھے عبادت کی حلاوت نصیب ملے تُوپھر توبھی ان راہبوں کی طرح اپنے سب گھروالوں کوچھوڑ دے۔''
     اس نے قسم کھاکریقین دلایاکہ ایساہرگزنہیں ہوگا۔بالآخراس نے انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل ہونے والی کُتُب اور انجیل وغیرہ کی تعلیم حاصل کی ،سرمنڈایااوربہت بڑے گرجاگھرمیں چلاگیاجہاں راہبوں کی ایک جماعت پہلے ہی سے موجودتھی ۔ جب راہبوں نے اس کی داڑھی کاحسن وجمال دیکھاتو اسے اپناامیربناکرگرجے کے تمام اُمو ر ا س کی نگرانی میں دے دیئے۔ گرجا گھرکے تمام اموال وخزانوں کی چابیاں پا کروہ اپنی مراد کو پہنچ چکا تھا۔اس نے قوم کے شر فاء وسرداروں کے ساتھ مہربانی ونرمی کا رویہ اختیارکیاتوسب لوگوں کے دلوں میں اس کی قدرومنزلت بڑھ گئی ۔اب اس رِیاکاروبناوٹی راہب نے دوسرے راہبوں کو حقیرسمجھناشروع کردیا۔ ان کی خوراک میں کمی کردی اوران کے مر تبوں کوبھی گھَٹادیا۔پھرایک عابدوشریف النفس شخص کوگرجا گھر کے لئے آنے والی آمدنی پرنگران مقررکیا اور خود عیش وعشرت میں مشغو ل ہوگیا۔اچھااورنرم وملائم لباس پہننااورشراب پی کر
Flag Counter