ملا ، اس نے پکار کر کہا:''اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میرے ساتھ چلئے اور فلاں شخص سے میراحق دلوایئے۔ بے شک اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے۔''امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ چونکہ لشکر کی کارکردگی لینے میں مصروف تھے اس لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی مداخلت سے بہت کوفت ہوئی ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے سر پر ہلکی سی ضرب لگائی اور فرمایا:''میں مسلمانوں کے کاموں میں مصروف ہوتا ہوں اور تم میں سے کوئی شخص آکر کہتا ہے کہ میری بات سنئے !میری مدد کیجئے !حالانکہ میں اس وقت تمہارے ہی کاموں میں مصروف ہوتاہوں،تم مجھے موقع بے موقع پکارتے ہو۔''
یہ سن کر وہ شخص ناراض ہو کر وہاں سے چلا گیا۔ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بے قرارہوکر فرمایا: ''اس شخص کو فوراً بلا کرمیرے پاس لاؤ۔'' جب وہ آیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی طرف کَوڑا پھینکتے ہوئے ارشاد فرمایا: ''آؤ اور مجھ سے بدلہ لے لو۔''اس نے عرض کی :''یاامیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا حق معاف کیا،میں بدلہ نہیں لوں گا ۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :'' تم شاید میرے ڈر کی وجہ سے بدلہ نہیں لے رہے ہو، آؤ! بلا خوف وخطر بدلہ لے لو۔''اس نے کہا :''حضور! میں نے رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے اپنا حق معاف کیا۔'' یہ کہہ کر وہ شخص چلا گیا ۔امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اپنے گھر کی طرف تشریف لے گئے ۔ہم بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دورکعت نماز اداکی پھر بیٹھ گئے اور اپنے آپ کو مخاطب کرکے فرمایا:''اے خطاب کے بیٹے !تُو پَست تھا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے بلندی عطا فرمائی، توبھَٹْکا ہوا تھااللہ ربُّ العِزَّت نے تجھے سیدھی راہ پر چلایا ،تو ذلیل تھا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے عزت کا تاج پہنایااورپھر تجھے مسلمانوں پر امیر مقرر فرمایا،اب اگر کوئی شخص تیرے پاس مدد لینے آتا ہے تو تُو اُسے مارتا ہے ۔اے خطاب کے بیٹے !کل بروزِقیامت جب خداعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں جائے گا توکیاجواب دے گا؟ ''نماز کے بعد کافی دیر تک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے آپ کو ڈانٹتے رہے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیاکہ ا س وقت تمام اہلِ زمین میں سب سے بہتر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہیں۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)